سٹی 42ؒ:پاکستان پیپلزپارٹی کےزیراہتمام بلدیاتی انتخابات کی تیاری کےحوالےسےاجلاس رہنماپیپلزپارٹی فیصل میرکی صدارت میں ہوا۔
بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسلزکی تعداد،حلقہ بندی اورحدبندی بارےاظہارخیال کیا گیا ۔ 
فیصل میر نے کہا لاہورکی تمام یونین کونسلزسےپیپلزپارٹی اپنےامیدوارکھڑےکریگی،جوہرٹاؤن کےمرکزی دفترسےہرچیزمانیٹرکریں گے۔مجیدغوری آفس کےانچارج ہونگےاورورکرزکےمسائل دیکھیں گے۔
بلدیاتی الیکشن کے حوالے دفاتر کھول رہے ہیں۔بلدیات کے الیکشن کے بعدسسٹم میں بہتری آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے کروڑوں روپے کے اشتہارات کا سہارا لیا ہوا ہے پھر بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی انتخابات کیوں کروائے جا رہے ہیں،آج کے کنونشن میں الیکشن بھرپور طریقہ سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔امید کرتے ہے ہمارے جینتنے والے امیدواروں کو چھانگا مانگا کی سیاست کی نظر نہیں کیا جائیگا.

ہنڈائی ٹکسن ہائبرڈ بغیر سود کے آسان اقساط میں حاصل کریں


سینئر رہنما پیپلزپارٹی میاں مصباح الرحمان نے کہا بلدیات کا الیکشن نہ ہونے سے ممبر قومی و صوبائی اسمبلی کونسلرز بن چکے ہیں ۔ایم این اے کا کام سٹریٹ لائٹس لگانا نہیں ہے۔
بلدیات کے الیکشن کا مقصد عام آدمی کے دروازے تک سہولیات پہنچانا ہے۔حکومت نے تین چار سال بلدیات کا قانون بنانے میں لگائے۔
پیپلز پارٹی تمام سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔چئیرمین سے کہیں گے کہ جلد از جلد الیکشن کے حوالہ سے کمیٹی بنائیں ۔

برائلر مرغی کے گوشت   کی قیمت میں  حیران کن کمی

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش