ملک بھر کے گھریلو صارفین کیلیے گیس کنکشنز کھولنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں گھریلو گیس کنکشن کھولنے کا اعلان کردیا۔انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی سے گھریلو صارفین کو معیاری ایندھن کی فراہمی ممکن ہوگی، ملک بھر میں لاکھوں صارفین گیس کنکشنز کے منتظر ہیں، ہماری حکومت نے ملک میں بیس بیس گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی حل کیا تھا، پاکستان کی ترقی کے لے دن رات محنت کرنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل (آر ایل این) گیس کے گھریلو کنکشنز کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ گیس کنکشنز کی فراہمی بہت بڑا عوامی مطالبہ تھا۔ 2022ء میں حکومت سنبھالی تو گیس کنکشنز کی فراہمی کا بہت دباؤ تھا، سپلائی کم، مانگ زیادہ تھی، لاکھوں لوگ گیس کنکشنز کی فراہمی کیلئے انتطار میں تھے، جہاں پائپ لائنز بچھ چکی تھیں وہاں بھی گیس فراہمی ممکن نا تھی کیونکہ گیس موجود ہی نہیں تھی، ہم نے اس مسئلے پر توجہ دی۔آج گھریلو صارفین کے لیے معیاری ایندھن دستیاب ہوگیا ہے، یہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے عوامی خدمت کے اقدامات کا ہی تسلسل ہے ، 2013 ء میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ملک میں اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کیا تھا۔انہوں نے کہا پاکستان کی ترقی کے لیے ہمیں دن رات محنت کرنی ہے اور اپنے ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔وزیر اعظم نے قبل ازیں تختی کی نقاب کشائی کرکے آر ایل این جی کنکشنز کی فراہمی کا افتتاح کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کنکشنز کی فراہمی گیس کنکشنز انہوں نے نے ملک
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،