سندھ بلڈنگ ،ماڈل کالونی میں ذوالفقار بلیدی کے چرچے عام
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
شیٹ نمبر 27کے پلاٹ نمبر 12پر خلافِ ضابطہ اضافی منزل کی چھوٹ
ایک منزلہ پر دوسری منزل کی تعمیر،مقامی رہائشیوں میں شدید تشویش
ضلع کورنگی ماڈل کالونی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کے چرچے زبان زد عام ہیں،موصوف نے بغیر نقشے اور منظوری کے خلاف ضابطہ تعمیرات کی چھوٹ دے رکھی ہے ،جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق شیٹ نمبر 27میں واقع پلاٹ نمبر 12پر جاری غیر قانونی تعمیراتی کاموں نے مقامی رہائشیوں کو بری طرح پریشان کر دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق اس پلاٹ پر محکمہ ٹاؤن پلاننگ کی جانب سے صرف ایک منزلہ کمرشل پورشن کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی،لیکن مالک پلاٹ نے ضوابط کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے دوسری منزل تعمیر مکمل کر دی ہے ۔ ایک مقامی رہائشی کا کہنا ہے کہ ’’یہ تعمیر نہ صرف بلدیاتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بلکہ اس سے ساختی سالمیت کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے ‘‘۔اس غیر مجاز تعمیر کے باعث علاقے میں پہلے سے موجود ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس تعمیر سے نہ صرف گلیوں میں رش بڑھے گا بلکہ موجودہ نکاسی آب کے نظام پر بھی دباؤ پڑے گا۔ ایک بزرگ رہائشی نے بتایا کہ ’’تعمیراتی کاموں کے دوران اڑنے والی دھول اور شور نے رہائشی علاقے کے پر سکون ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے ‘‘۔ مقامی افراد نے وزیر بلدیات سے فوری طور پر اس خلاف ورزی کی طرف توجہ دینے اور غیر قانونی تعمیر کو روکنے کی اپیل کی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔