اقوام متحدہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا اپنا وعدہ پورا کرے، فاروق رحمانی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق فاروق رحمانی نے جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو 78سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی اقوام متحدہ کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیرشاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا وعدہ پورا کرے۔ ذرائع کے مطابق فاروق رحمانی نے جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو 78سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی اقوام متحدہ کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے لیکن بھارت نے علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارت نے ہزاروں غیر مقامی لوگوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کر کے اور بیرونی لوگوں کو مقبوضہ علاقے میں زمین اور جائیداد خریدنے کی اجازت دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کے تحت ہزاروں بے گناہ نوجوانوں کو جیلوں میں نظربند کیا گیا ہے، جبکہ سیاسی رہنمائوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بہت سے کشمیری اپنی جان کو لاحق خطرات کی وجہ سے بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ کشمیری مسلمانوں کو چن چن کر نوکریوں سے برطرف کیا جا رہا ہے اور من گھڑت الزامات پر لوگوں کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فوجی طاقت کے بل پر جموں و کشمیر پر قابض ہے جو مقامی باشندوں کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دے رہا ہے اور ان کی بنیادی آزادیاں سلب کر رہا ہے۔
فاروق رحمانی نے کہا کہ کالے قوانین کی آڑ میں لوگوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے، رشتہ داروں سے ان کا رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے جبکہ خفیہ ایجنسیاں مسلسل انہیں ہراساں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور سیاسی آزادیاں مسلسل خطرے میں ہیں اور بدعنوانی اور بدانتظامی اپنے عروج پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ بے اختیار ہے اور وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔فاروق رحمانی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر پر بھارت کے مسلسل قبضے کا سنجیدہ نوٹس لے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فاروق رحمانی نے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ رہا ہے پر ایک
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔