ہم کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں: گورنر کے پی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ہم نے اپنی تعداد پوری کی، ہم کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت جلد ہم کشمیر میں اپنی حکومت بنائیں گے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں چھوٹی کابینہ پہلے دن سے بنانا ضروری ہے، ملاقات بعد میں ہو جائے گی، امور چلانے کے لیے کابینہ تشکیل دینی چاہیے۔
اسلام آباد صدر مملکت آصف علی زرداری کی طرف سے.
گورنر کے پی نے کہا کہ علی امین کو کیوں نکالا، میر صادق یا میر جعفر کا کردار ادا کیا تھا یا کرپٹ تھا؟
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارا صوبہ وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔