اپوزیشن کے دعوے اور حقیقت میں تضاد واضح ہے، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اپوزیشن پارٹی سٹیج پر باتیں کرتی ہے اور سٹیج سے اتر کر منتیں کرتی ہے جبکہ صوبے کے امن و امان کے معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دینا لازم ہے۔
خیبرپختونخوا میں پریس کانفرنس کے دوران فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی دن بدن بڑھ رہی ہے اور جو لوگ ملکی آئین کو تسلیم نہیں کرتے، ان سے مذاکرات کیسے ممکن ہیں، دہشت گردوں سے بات کرنا ممکن نہیں اور جو لوگ صوبے کے امن کو خراب کرتے ہیں وہ ہمارے بچوں کے دشمن ہیں۔
گورنر نے کہا کہ سب لوگ اڈیالہ کے باہر ہوتے ہیں لیکن صوبے کا نظام درہم برہم ہے، جو لوگ سٹیج پر نعرے لگاتے ہیں، وہ سٹیج سے اتر کر منتیں کرتے ہیں، انقلاب کے لیے قربانیاں دینا پڑتی ہیں، نعرے لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
فیصل کریم کنڈی نے وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ریاست اور پھر سیاست ہونی چاہیے، صوبے کے حالات پہلے بہتر تھے، پرامن صوبہ ملا تھا، مگر غیر ملکی عناصر کی مداخلت اور غیر ذمہ دار اقدامات کی وجہ سے امن خراب ہوا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ سنجیدگی سے امن و امان کے امور پر توجہ دے اور ملک کی ترقی کو ترجیح دے، آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر وفاق کا نمائندہ ہونے کے ناطے وہ ہر قدم اٹھائیں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے اور مرکز کو مل کر امن قائم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ نعرے بازی کے بجائے عملی اقدامات کی طرف توجہ دے تاکہ خیبرپختونخوا میں امن قائم رہے اور ترقی کا عمل جاری رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے نے کہا ہے اور کہا کہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ