صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل جی بی کے توسط سے دائر کردہ درخواست کو 28 اکتوبر 2025ء (بروز منگل) دوپہر 1:00 بجے یہ جانچنے کے لیے کہ آیا درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں، ابتدائی سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے دائر درخواست کی ابتدائی سماعت کی تاریخ مقرر کر دی۔ صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل جی بی کے توسط سے دائر کردہ درخواست کو 28 اکتوبر 2025ء (بروز منگل) دوپہر 1:00 بجے یہ جانچنے کے لیے کہ آیا درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں، ابتدائی سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ درخواست میں الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے نوٹیفکیشن نمبر ELC-1(1)/GBE/2025 مورخہ 21 اکتوبر 2025ء کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت حکومتِ گلگت بلتستان کے اختیارات معطل کر دیے گئے تھے۔ اس ضمن میں ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان، وزیرِ قانون گلگت بلتستان، اور سیکریٹری قانون و استغاثہ گلگت بلتستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ اور وقت پر چیف الیکشن کمشنر کے روبرو پیش ہو کر کمیشن کی معاونت کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی جانب سے کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن