جی بی حکومت کے اختیارات معطل کرنے کے فیصلے کیخلاف دائر درخواست کی ابتدائی سماعت 28 اکتوبر کو مقرر
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل جی بی کے توسط سے دائر کردہ درخواست کو 28 اکتوبر 2025ء (بروز منگل) دوپہر 1:00 بجے یہ جانچنے کے لیے کہ آیا درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں، ابتدائی سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے دائر درخواست کی ابتدائی سماعت کی تاریخ مقرر کر دی۔ صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل جی بی کے توسط سے دائر کردہ درخواست کو 28 اکتوبر 2025ء (بروز منگل) دوپہر 1:00 بجے یہ جانچنے کے لیے کہ آیا درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں، ابتدائی سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ درخواست میں الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے نوٹیفکیشن نمبر ELC-1(1)/GBE/2025 مورخہ 21 اکتوبر 2025ء کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت حکومتِ گلگت بلتستان کے اختیارات معطل کر دیے گئے تھے۔ اس ضمن میں ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان، وزیرِ قانون گلگت بلتستان، اور سیکریٹری قانون و استغاثہ گلگت بلتستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ اور وقت پر چیف الیکشن کمشنر کے روبرو پیش ہو کر کمیشن کی معاونت کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی جانب سے کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔