آئندہ انتخابات میں جوڈیشل افسران کو بطور ریٹرننگ افسران لگانے کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
آئندہ انتخابات میں جوڈیشل افسران کو بطور ریٹرننگ افسران لگانے کی سفارش WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات میں جوڈیشل افسران کو بطورریٹرننگ افسران لگانے اور ہر حلقے کیلئے الگ ریٹرننگ افسر کی شرط ختم کرنے کی تجویز دے دی۔
الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی سے متعلق حکومت کو بھجوائی گئی سفارشات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے جوڈیشل افسران کی بطور آر او فراہمی یقینی بنائے۔الیکشن کمیشن سفارشات کے مطابق تمام ہائیکورٹس کو انتخابات کیلئے جوڈیشل افسران کی فراہمی کیلئے پابند کیا جائے، جوڈیشل افسران کو قانون اور انتخابی امور کی زیادہ آگاہی ہوتی ہے، گزشتہ انتخابات میں بیوروکریسی سے آئے افسران کی الیکشن ڈیوٹی کیلئے دستیابی مشکل رہی۔
الیکشن کمیشن نے ہر حلقے کیلئے الگ ریٹرننگ افسر کی شرط ختم کرنے کی بھی تجویز دیدی، کہا ہر حلقہ کیلئے الگ ریٹرننگ افسران کی تعیناتیوں سے مسائل پیدا ہوئے، قومی اسمبلی کے نیچے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں کیلئے ایک ہی آر او کی اجازت ہونی چاہیے، الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی سے متعلق سفارشات حکومت کو بھجوا دیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی عرب کا پاکستان کیلئے ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کرنے کا فیصلہ سعودی عرب کا پاکستان کیلئے ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کرنے کا فیصلہ شرح سود کو ایک بار پھر برقرار رکھنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، عاطف اکرام شیخ اسٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ پاکستان اور بنگلہ دیش کا دفاعی اور سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق آزادی کی آواز بلند کرنے والے کشمیر ی آج بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں ،امیر مقام پاکستان کا بھارت سے ملنے والی فضائی حدود 2 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جوڈیشل افسران کو ریٹرننگ افسران انتخابات میں افسران کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔