مستونگ: پولیس اہلکار کی بہادری، ڈاکوؤں کی واردات ناکام
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
مستونگ کے علاقے دشت میں ایک پولیس اہلکار کی حاضر دماغی اور بہادری کی بدولت موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش ناکام بن گئی، جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو موقع پر ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ منگل دوپہر تقریباً ایک بجے پیش آیا، جب ایگل اسکواڈ کا اہلکار ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ دشت کمبیلا کے مقام پر دو مسلح ڈاکوؤں نے اسے روک کر موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی۔
اہلکار نے فوری جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں محمد یوسف ولد محمد علی شاہوانی موقع پر ہلاک اور اس کا ساتھی محمد حسن ولد محمد عظیم بنگلزئی زخمی ہوگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب کسٹم سے ہے۔ ہلاک ملزم کی لاش اور زخمی کو شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل اسپتال مستونگ منتقل کیا گیا، جبکہ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر پولیس اہلکاروں کی تیز ردعمل اور عوام کی حفاظت میں ان کی قربانی کو واضح کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک