بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی جانب سے آزاد کشمیر میں نئی حکومت بنانے کے فیصلے کے بعد تاحال نئے وزیراعظم کا نام نہیں دیا اور اس کا باقاعدہ اعلان پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کو پی پی پی کے ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے لیے کوئی نام فائنل نہیں کیا گیا، پارٹی کی مرکزی قیادت مشاورت کے بعد باضابطہ اعلان کرے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ وزارت عظمیٰ کے لیے چوہدری یاسین، لطیف اکبر اور سردار یعقوب کے نام زیر غور ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے لیے نام کا اعلان کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔