کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن میں کارروائی، 10 سے زائد دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ:۔ سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن کے پہاڑی سلسلوں میں کارروائی کرتے ہوئے 10 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کالعدم تنظیم کے کیمپوں کے خلاف کی گئی، مارے گئے تمام افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔
فائرنگ سے ایک راہگیر جاں بحق اور پکنک کے لیے آنے والے 8 افراد بھی زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی فورسز کے عملے نے کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن پہاڑی سلسلے میں مشتبہ مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع پر فورسز نے برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائی ڈرون کے ذریعے آپریشن کرکے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران فائرنگ سے ایک راہگیر نقیب اللہ بھی جاں بحق ہوگیا۔ جبکہ چلتن پہاڑی علاقے میں پکنک کے لیے آنے والے 8 افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ نعشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا مزید کارروائی متعلقہ انتظامیہ کررہی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔