پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، نیول چیف
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں(تصویر سوشل میڈیا)۔
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں پاک بحریہ کی کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس منعقد ہوئی۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کی صدارت چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کی، نیول چیف نے روایتی اور غیر روایتی بحری چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جنگی تیاری برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف نے مزید کہا کہ پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام اور بحری سلامتی کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، پاک بحریہ قومی خود مختاری کے تحفظ اور سمندری سرحدوں کے ہر انچ کے دفاع کیلئے پوری طرح تیار ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورم میں آپریشنل تیاری، جاری منصوبوں اور آئندہ سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کی تیاریوں اور انعقاد پر بھی غور کیا گیا۔
میری ٹائم ایکسپو کانفرنس پاکستان کی بحری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور علاقائی تعاون کے فروغ کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس پاک بحریہ کا اعلیٰ فیصلہ ساز فورم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ نیول چیف
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔