صیہونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن کردار اداکیا، ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ صیہونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے، اور ایران کے عوام پاکستان کی دوستی اور بھائی چارے کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے کردار اور مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک خوش آئند ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چند ماہ قبل ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے نے تعلقات کو ایک نئی سمت دی۔ پاکستان نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا ہے، اور آج ہونے والے معاہدے پاک ایران تعلقات کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ ایرانی صدر کا حالیہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے اور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعاون کا مقصد اپنے عوام کی خوشحالی ہے۔ عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ایران پر جارحیت کے دوران پاکستانی عوام نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر کے اپنی دوستی ثابت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور ایران ایران کے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔
عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی