سموگ' فضائی آلودگی کی روک تھام کیلئے کریک ڈاؤن' 26 مقدمات' متعدد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب پولیس کی جانب سے سموگ اور فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے کارروائیاں جاری ، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سموگ کریک ڈاؤن میں 26 مقدمات درج کیے گئے اور متعدد قانون شکن افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 464 افراد کو 10 لاکھ 55 ہزار روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 87 افراد کو وارننگ جاری کی گئی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کے دوران فصلوں کی باقیات جلانے کی 52، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 145، صنعتی سرگرمیوں کی 5 اور اینٹوں کے بھٹوں کی 12 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔
محسن نقوی کا شاہین چوک انڈر پاس پراجیکٹ کا دورہ، تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ
ترجمان کے مطابق رواں سال اب تک مجموعی طور پر 2388 مقدمات درج اور 2106 قانون شکن گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ 88 ہزار 981 افراد کو 23 کروڑ 8 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 12 ہزار 966 افراد کو وارننگ جاری کی گئی۔
مزید تفصیلات کے مطابق فصلوں کی باقیات جلانے کی 1373، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 53 ہزار 420، صنعتی سرگرمیوں کی 1396 اور اینٹوں کے بھٹوں کی 2089 خلاف ورزیاں رپورٹ کی گئیں۔
نشانہ بازی میں مہارت، عسکری تربیت کا بنیادی مقصد رہنا چاہیے: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔