پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر صدر کے باہر دھماکا، آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور کے مرکزی اور حساس علاقے میں آج علی الصبح دھماکا ہوا، جس کے بعد علاقے میں آپریشن جاری ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹر صدر کے باہر زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے فوراً بعد علاقے میں فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ دھماکے کی آواز پورے صدر بازار اور ملحقہ علاقوں تک سنی گئی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر حرکت میں آگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، ایلیٹ فورس اور آر آر ایف کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا۔
دھماکے کے مقام کے اطراف کینٹ روڈ سمیت تمام اہم راستے عوام اور ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ ریسکیو اداروں نے بھی ہنگامی طور پر کارروائی شروع کر دی، متعدد ایمبولینسیں جائے وقوع کی جانب روانہ کی گئیں اور زخمیوں کے اسپتال منتقل کیے جانے کی تیاری مکمل کر لی گئی۔
ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت، ممکنہ ہلاکتوں یا زخمیوں کے حوالے سے باضابطہ معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ علاقے میں موجود لوگوں کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جاتی رہیں۔
سی سی پی او پشاور میاں سعید نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے کے بعد بھاری نفری موقع پر پہنچ چکی ہے اور پولیس نے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ مسلح افراد کی موجودگی کے باعث فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور صورتحال مکمل طور پر کلیئر کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔
سی سی پی او کے مطابق وہ خود اس کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ فورسز کی پیش قدمی مربوط طریقے سے جاری رہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملے کی نوعیت جانچنے اور حملہ آوروں کے عزائم سمجھنے کے لیے بم ڈسپوزل یونٹ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقے میں
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔