برآمدات پر نافذ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج فوری ختم کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی برآمدات پر نافذ کردہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کے سفارشات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا پچھلے 5 سال کا عالمی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں موجودہ رقم کے بہترین استعمال کے لیے پرائیویٹ سیکٹر سے موزوں چیئرمین کو منتخب کیا جائے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں موجود رقم کو صرف ملکی برآمدات میں اضافے، متعلقہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، برآمدی سیکٹر کی افرادی قوت کی ہنر مندی، ٹریننگ اور عالمی معیار کی جدید سہولتوں کے لیے استعمال کیا جائے اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت جاری پروگرام اور تماما سکیمز کا بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کردار کا اصلاحاتی جائزہ اور تشکیل نو کی جائے، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا غیر متعلقہ اور غیر منطقی استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی برآمدی اشیاء کی تشہیر اور پروموشن وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے، ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے صنعت کاروں کو فوری طور پر ہر ممکن سہولت پہنچانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔