سپورٹس ویمن کیساتھ دو سال تک زیادتی، کوچز سمیت 60سے زائد افراد ملوث
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک اسپورٹس ویمن کو دو سال تک زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس میں 60 زائد افراد ملوث ہیں جن میں کوچز بھی شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کیرالہ پولیس کا کہنا ہے کہ پٹھانم تھٹہ میں ایک لڑکی کے ساتھ دو سال کے دوران بار بار زیادتی کے الزام میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اس کیس میں 60 سے زائد افراد کے ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔دو ماہ قبل 18 برس کی ہونے والی اس متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ اسے 16 سال کی عمر سے بار بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا،یہ معاملہ اُس وقت منظرعام پر آیا جب متاثرہ لڑکی کے تعلیمی ادارے کے اساتذہ نے اس کے رویے میں تبدیلیوں کو نوٹ کرتے ہوئے یہ معاملہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کو سونپا، جس کے بعد کونسلنگ کے دوران لڑکی نے چونکا دینے والے انکشافات کیے۔
کیرالہ پولیس نے بتایا کہ اس کیس میں دو ایف آئی آرز کے تحت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک اور ملزم پہلے ہی ایک الگ کیس میں جیل میں تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق پٹھانم تھٹہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے چیئرمین راجیو این نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی نے سب سے پہلے ایک اسکول کے کونسلنگ سیشن میں جنسی زیادتی کے بارے میں بات کی۔ کونسلرز کی جانب سے معاملہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کو بھیجنے کے بعد پولیس کیس درج کیا گیا۔متاثرہ لڑکی کو کیرالہ کے پٹھانم تھٹہ کے مختلف مقامات پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن میں کھیل کے کیمپس بھی شامل ہیں۔
ان واقعات میں کوچز، ہم جماعت اور مقامی رہائشی ملوث تھے۔رپورٹ کے مطابق لڑکی کے پاس ذاتی موبائل فون نہیں تھا اور اس نے اپنے والد کے موبائل میں تقریباً 40 افراد کے نمبر محفوظ کیے تھے جو اس کے ساتھ زیادتی میں ملوث تھے۔چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے ارکان نے متاثرہ لڑکی کو ایک ماہر نفسیات کے پاس کونسلنگ کےلیے بھیجا تاکہ الزامات کی تصدیق ہو سکے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کیس کی غیر معمولی نوعیت کو دیکھتے ہوئے پولیس کو آگاہ کیا گیا۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں کہاں کہاں با رش ہوگی،موسمیات نے الرٹ کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کیا گیا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔