وزیراعلیٰ الیکشن لڑنے کیلئے عوام سے چندہ جمع کرنے لگیں،حیرت انگیز خبرسامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارتی ریاست دہلی کی وزیراعلیٰ اتیشی مارلینا نے اگلا الیکشن لڑنے کے لیے فنڈنگ شروع کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی کی خاتون وزیراعلیٰ اتیشی مارلینا نے فروری میں ہونے والے ریاستی انتخابات لڑنے اور اس میں آنے والے اخراجات کے لیے کراؤڈ فنڈنگ مہم شروع کی ہے جس میں انہوں نے لوگوں سے عطیات دینے کی اپیل کی ہے۔ اتیشی مارلینا کو اب تک 422 ڈونرز کی جانب سے 18 لاکھ 56 ہزار بھارتی روپے کے عطیات موصول ہوچکے ہیں جب کہ انہوں نے الیکشن لڑنے کے لیے 40 لاکھ جمع کرنے کا ٹارگٹ رکھا ہے۔
اس حوالے اتیشی مارلینا کا کہنا تھا کہ لوگوں نے عام آدمی پارٹی کی ایماندارانہ سیاست کو سپورٹ کرنے کے لیے پیسا دیا، ہم انتخابات کے لیے بڑے سرمایہ داروں سے پیسا نہیں لے رہے، ہم عام آدمی کے لیے کام کرتے ہیں۔ بھارتی ریاست دہلی میں حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد 5 فروری کو ریاستی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوگی جب کہ نتائج کا اعلان 8 فروری کو کیا جائیگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے جیل سے رہا ہونے کے بعد وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے کر اتیشی مارلینا کو اپنی جگہ وزیراعلیٰ منتخب کروایا تھا۔
آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے تاریخی کوہالہ پُل پر کشمیر بنے گا پاکستان کنونشن کا انعقاد
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اتیشی مارلینا کے لیے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔