بیجنگ:  چین کی ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس کی ایک پریس کانفرنس میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے متعلقہ اہلکار کے مطابق، 2024 میں سامان میں چین کی مجموعی درآمدی اور برآمدی مالیت 43.85 ٹریلین یوآن رہی ، جو سال بہ سال 5 فیصد کا اضافہ ہے. یہ حجم کی  ایک ریکارڈ سطح ہے۔ غیر ملکی تجارت  نے مجموعی حجم، اضافہ اور معیار  میں ترقی حاصل کی .

 برآمدات کا حجم مسلسل آٹھ سالوں سے ترقی کرتا ہوا  پہلی بار 25 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر  کے  25.45 ٹریلین یوآن تک پہنچا   ، جو سال بہ سال 7.1 فیصد کا اضافہ ہے  ۔ درآمدات 18.39 ٹریلین یوآن رہیں جو 2.3 فیصد اضافہ ہے۔ گزشتہ سال 26 ستمبر   کو  سی پی سی کی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو نے توسیعی پالیسیوں کا ایک سللسہ جاری کیا تھا جس سے چوتھی سہ ماہی میں غیر ملکی تجارت  کو مضبوط  فروغ ملا اور یہ بڑھ کر  11.51 ٹریلین یوآن کی   سہ ماہی ریکارڈ بلندی تک پہنچی ۔ خاص طور پر دسمبر میں درآمدات اور برآمدات کے حجم  نے پہلی بار 4 ٹریلین یوآن سے تجاوز کیا  اور شرح نمو  6.8 فیصد تک پہنچی ۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل(crude oil) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ خلیجی معیار کے مطابق یو اے ای کا مربن کروڈ آئل بھی 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں یہ اضافہ صرف سیاسی کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں سپلائی چین سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی طلب بھی شامل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشتوں پر بھی پڑے گا۔

پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اضافہ برقرار رہنے کی صورت میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

ادھر حکومتیں اور توانائی مارکیٹس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی پالیسیوں اور جغرافیائی حالات کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ