پی ٹی آئی مذاکرات کی کامیابی کیلیے سائیڈ شو بند کرے‘ خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ جسارت‘صباح نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف چاہتی ہے کہ مذاکرات میں سے کچھ نکلے تو اپنے سائیڈ شو بند کرے۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جو کچھ کل قومی اسمبلی میں کیا گیا وہ مذاکرات سے ان کی وابستگی اور نیت پر سوالیہ نشان ہے،جب بھی مذاکرات ہوتے ہیں تو فریقین جارحیت بند کر دیتے ہیں، انہوں نے جو زبان استعمال کی ہے اس سے عیاں ہے کہ مذاکرات صرف ایک اسموک اسکرین ہے۔بانی پی ٹی آئی کو حکومت نے کبھی ڈیل کی کوئی پیشکش نہیں کی، ہم ان کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کر سکتے، فیصلے عدالتوں نے کرنے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مختلف مواقع پر ایسی باتیں کی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ڈیل چاہتے ہیں، تحریک انصاف کے ساتھ پس پردہ کوئی بات چیت نہیں چل رہی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے اپنی سرکاری حیثیت میں کچھ روابط ضرور ہیں لیکن انہیں بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی کی غلط پالیسیوں کے باعث کشمیریوں کی قربانیاں نظرانداز ہوئی ہیں،آزاد کشمیر کے سیاستدانوں میں اتفاق کا فقدان ہے، جس سے وہ عوامی مسائل حل کرنے میں یکسر ناکام رہے،آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کی ترجیحات مقامی ڈھانچے کی ترقی نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔