City 42:
2026-07-24@15:32:18 GMT

لاہور کے مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز کے تبادلے کردیے گئے

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT

عابد چوہدری:  لاہور میں پولیس کے متعدد ایس ایچ اوز کے تقرر و تبادلے کر دیے گئے ہیں۔

 ان نئے تقرر و تبادلوں کے مطابق مختلف سب انسپکٹرز کو اہم تھانوں میں ایس ایچ اوز کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

تفصیلات کےمطابق سب انسپکٹر احسن اقبال  ایس ایچ او مزنگ تعینات ،ایس ایچ او مزنگ رائے آصف جبار کو پولیس لائنز رپورٹ کرنے کا حکم ،سب انسپکٹر حسین زبیر کو ایس ایچ او سرور روڈ تعینات کیا گیا، ایس ایچ او گجرپورہ انسپکٹر آصف ادریس کو پولیس لائنز کلوز کر دیا گیا، سب انسپکٹر محمد ذکاء کو ایس ایچ او گجر پورہ تعینات کیا گیا۔ ایس ایچ او شادمان انسپکٹر خرم شہزاد کو پولیس لائنز رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا اور سب انسپکٹر شہزاد نعیم کو ایس ایچ او شادمان تعینات کیا گیا ہے
سب انسپکٹر فہد علی کو انچارج چوکی اکرم پارک تعینات کیا گیا،ایس ایچ او جوہر ٹاؤن سب انسپکٹر مستنصر محمود کو اے آر ایف رپورٹ کا حکم دیا گیا،سب انسپکٹر بلال احمد کو ایس ایچ او جوہر ٹاؤن تعینات کیا گیا،سب انسپکٹر عمران مصور کو ایس ایچ او لوہاری گیٹ تعینات کیا گیا،سب انسپکٹر خضر حیات کو ایس ایچ او غالب مارکیٹ تعینات کیا گیا، لیڈی سب انسپکٹر حاجن آسیہ کو پولیس لائنز کلوز کر دیا گیا، سب انسپکٹر اسد بشیر کو ایس ایچ او ہڈیارہ تعینات کیا گیا، سب انسپکٹر دلاور علی کو ایس ایچ او گڑھی شاہو تعینات کیا گیا۔
اس کے علاوہ ایس ایچ او ہیئر سب انسپکٹر توصیف احمد کو جنرل ڈیوٹی تھانہ سول لائنز تعینات کیا گیا، اور سب انسپکٹر عزیر ارشد کو ایس ایچ او ہیئر تعینات کیا گیا، انچارج چوکی راجہ مارکیٹ سب انسپکٹر عامر رفیع کو پولیس لائنز رپورٹ کا حکم دیا گیا، سب انسپکٹر محمد یاسین کو انچارج چوکی راجہ مارکیٹ تعینات کیا گیا، ایس ایچ او پرانی انارکلی انسپکٹر رضا ذاکر کو پولیس لائنز کلوز کر دیا گیا، سب انسپکٹر واجد علی کو ایس ایچ او پرانی انارکلی تعینات کیا گیا ہے۔

 

شب معراج پر تین روزہ عام تعطیل کا اعلان

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: تعینات کیا گیا کو پولیس لائنز سب انسپکٹر دیا گیا کا حکم

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 فوجی، 2 پولیس اہلکار شہید، 12 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے