نرگس فخری کو کچھ عرصہ قبل بالی ووڈ کیوں چھوڑنا پڑا؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
نرگس فخری کو آج بھی ‘راک اسٹار’ گرل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جہاں امتیازعلی کی اس فلم میں رنبیرکپور کے ساتھ ان کی جوڑی ہمیشہ کے لیے یادگار رہے گی، وہیں اداکارہ ‘میں تیرا ہیرو’ جیسی دیگر فلموں کا بھی حصہ رہی ہیں۔
معروف بھارتی صحافی اور فلم نقاد سبھاش کے جھا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں نرگس نے اس صورتحال کا انکشاف کیا ہے جس میں انہیں چند سال قبل انڈسٹری چھوڑنا پڑی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نرگس فخری کی زندگی ایک ای میل نے کیسے تبدیل کردی؟
’مجھے ایک بدقسمت صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے میں بالی ووڈ میں واپس نہیں آسکی، میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی، مردانہ انا کی تسکین کے یہ عوامل بین الاقوامی ہیں، نہیں اس اس کی وجہ سے مجھے پیچھے ہٹنا یا بالی ووڈ چھوڑنا نہیں پڑا۔‘
نرگس فخری کے مطابق یہ بات انڈسٹری کے تمام لوگوں کے لیے درست نہیں ہے اور انہوں نے کچھ شاندار لوگوں کے ساتھ کام کیا ہے اور ان کے کام کو سراہتی ہوں۔‘
مزید پڑھیں: ’ہم آپ کے لیے آرہے ہیں‘، بہن کی گرفتاری کے بعد نرگس فخری کی پوسٹ وائرل
نرگس فخری نے بتایا کہ وہ بالی ووڈ اور یہاں کی ثقافت کے مطابق کیسے ڈھلنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا، ابتدا میں انہیں یہاں رقص کرنا بھی کافی مشکل لگا لیکن آہستہ آہستہ اس میں بہتری آگئی، تاہم انہیں ہمیشہ یہ خیال رہا کہ ‘آئٹم گرل’ یا ‘آئٹم سانگ’ کا ٹیگ ان کے لیے کافی منفی ہے۔
’یہاں تک کہ ‘آئٹم سونگ’ کی اصطلاح میرے لیے نئی ہے، جب لوگ کہتے ہیں کہ کوئی لڑکی آئٹم سونگ کر رہی ہے تو ان کا مطلب بہت اچھا نہیں ہوتا تھا، بالی ووڈ ڈانس میرے لیے اتنا ہی اجنبی ہے جتنا کہ ہندی، تاہم میں انہیں سیکھنے سے لطف اندوز ہو رہی ہوں۔‘
مزید پڑھیں:بالی وڈ ستارے جو بھارت میں پیدا نہیں ہوئے مگر انڈسٹری کی پہچان بن گئے
نرگس فخری ‘ہاؤس فل 5’ کے ساتھ بالی ووڈ میں واپس آرہی ہیں، اس فلم میں ان کے ہمراہ اکشے کمار، ابھیشیک بچن، رتیش دیش مکھ، سونم باجوہ اور جیکولین فرنینڈس بھی جلوہ گر ہورہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اکشے کمار امتیازعلی بالی ووڈ راک اسٹار رنبیرکپور میں تیرا ہیرو نرگس فخری ہاؤس فل 5.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اکشے کمار امتیازعلی بالی ووڈ راک اسٹار رنبیرکپور میں تیرا ہیرو ہاؤس فل 5 بالی ووڈ کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔