حکومت کی مرضی ہے وہ مذاکرات کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں، سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ کل ہم اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کر دیں گے اس کے بعد پھر حکومت کی مرضی ہے وہ مذاکرات کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے کمیشن کے قیام کے مطالبے پر حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے یا نہیں چاہتی، مذاکرات کا مستقبل ان باتوں پر منحصر ہے، ہم اپنے کسی بھی اصولی مؤقف سے نہیں ہٹیں گے، 8 فروری کو عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، ہم بالکل نہیں ہٹیں گے، کوئی کہتا ہے کہ مٹی ڈالو اور ہنسی خوشی ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ تو ایسا نہیں ہوگا، ہم اس مؤقف سے بھی نہیں ہٹیں گے کہ 26 نومبر کو گولیاں چلیں اور خون بہایا گیا۔ سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ یہ بنیادی مطالبات ہیں ان سب کے ساتھ ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں، ہمارے لوگوں کا جو خون بہا ہے اس کو فراموش نہیں کریں گے، عدلیہ انتظامیہ کے ماتحت ادارہ ہے یا عدلیہ ایک خودمختار ادارہ ہے؟ ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اس کے جرم کا تعین ریاست کی جانب سے کون کرے؟ اس کا تعین ایک کرنل صاحب کریں گے یا ایک عدالت کرے گی؟ عدالت میں تو لڑ ہی رہے ہیں، ہم کھڑے ہیں اور یہ جنگ سیاسی سطح پر بھی لڑیں گے۔اسی حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کل مذاکرات کا تیسرا سیشن ہو رہا ہے، ہم اپنے مطالبات لکھ کر سامنے رکھیں گے، سنجیدگی، کھلے دل اور نیک نیتی کے ساتھ بیٹھیں گے تو تمام مسائل کا حل نکل آئے گا، توقع کرتے ہیں حکومت ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی کیوں کہ عمران خان سیاسی قیدی ہیں انہیں رہائی ملنی چاہیے، سیاسی قیدیوں کی رہائی جمہوریت کیلئے بھی ضروری ہے امید ہے یہ پراسیس جلد مکمل ہوگا اور خوشی کی خبر آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے سیاسی قیدی ڈیڑھ دو سال سے تکلیف میں مبتلا ہیں، لوگ جیلوں میں بند ہیں ضمانتیں نہیں مل رہیں ہیں، ہمارے سیاسی قیدیوں کی رہائی ہر صورت ضروری ہے، آج کی کمپلینٹ ایک پرائیویٹ کمپلینٹ ہے، اس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے، اس کے بعد اس کمپلینٹ پر مزید کارروائی ہوگی، ہم نے اپنے 12 شہدا اور 49 زخمیوں کا ذکر کیا تھا، زخمیوں میں سے مزید دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ان کا ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔