شادی کب اور کس سے ہورہی ہے؟ گوہر رشید کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
پاکستانی اداکار گوہر رشید جو اپنی بہترین اداکاری اور متاثر کن کرداروں کے لیے مشہور ہیں، حالیہ دنوں میں ہیش ٹیگ ’میرے یار کی شادی‘ کے ذریعے سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ان کے مداحوں کا ماننا ہے کہ گوہر رشید اور اداکارہ کبریٰ خان جلد شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہیں جبکہ کچھ دن قبل گوہر رشید کی نکاح نامے پر دستخط کرنے کی ویڈیو بھی سامنے آچکی ہے۔
View this post on InstagramA post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)
ایک ویڈیو میں گوہر رشید نے اپنی شادی سے متعلق وائرل خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’میں جلد اس خبر کا انکشاف کروں گا۔ میں آپ کو بتاؤں گا کہ کون شادی کر رہا ہے اور یقین دلاؤں گا کہ یہ کسی قسم کی تشہیری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک حقیقی اور اہم معاملہ ہے۔‘
دوسری جانب، سوشل میڈیا صارفین اس ہیش ٹیگ کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ایک صارف نے اسے محض ڈرامہ قرار دیا، جبکہ دوسرے نے کہا کہ وہ اس خبر میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ کچھ مداحوں نے پیش گوئی کی کہ گوہر رشید واقعی شادی کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گوہر رشید
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔