بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کو ملک میں سب سے زیادہ پرتعیش زندگی گزارنے کیلئے جانا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔

ملیے سمرجیت سنگھ گائیکواڑ سے جو سونے کی دیواروں والے 24000 کروڑ بھارتی روپے کے محل میں رہتے ہیں۔ یہ رقم اگر پاکستانی روپوں میں تبدیل کی جائے تو یہ 7 کھرب، 72 ارب 19 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد بنتے ہیں۔ 

170 کمروں پر مشتمل یہ محل مکیش امبانی کے گھر سے بھی زیادہ عالیشان ہے۔

ارب پتی مکیش امبانی کی 15,000 کروڑ روپے کی حویلی دنیا کے مہنگے ترین نجی گھروں میں سے ایک ہے سمرجیت کا گھر برطانیہ کے شاہی محل بکنگھم پیلس کو بھی ماند کردیتا ہے۔

اس محل کو لکشمی ولاز کہتے ہیں جسے بڑودا محل بھی کہا جاتا ہے جو گائیکواڑ شاہی خاندان کا آبائی گھر ہے۔ بروڈا گجرات کے سابق حکمران تھے۔

سمرجیت سنگھ، گائیکواڑ خاندان کے چراغ ہیں اور وڈودارا کے لکشمی ولاز پیلس کے موجودہ مالک ہیں جو اپنی بیوی رادھیکاراجے گائیکواڑ اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ اس میں رہائش پذیر ہیں۔

اسے 1890 میں مہاراجہ سیاجی راؤ گائیکواڑ III نے 25,00,000 روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر کیا تھا۔ وڈودارا میں لکشمی ولاس پیلس دنیا کی سب سے بڑی نجی رہائش گاہ ہے جس کے آگے برطانوی شاہی خاندان کا بکنگھم پیلس اور ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کا 15,000 کروڑ کا مینشن بھی کچھ نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مکیش امبانی

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا