Islam Times:
2026-06-02@23:26:39 GMT

گریٹر اسرائیل، اب آگے کیا ہونے والا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT

گریٹر اسرائیل، اب آگے کیا ہونے والا ہے؟

اسلام ٹائمز: گریٹر اسرائیل ایک ایسی آبادی پر مشتمل ہوگا جہاں اکثریت اسرائیل اور مغرب کی پالیسیز کے خلاف ہوگی جبکہ وہ ایک متبادل عالمی آرڈر کی تلاش میں ہوں گے۔ جغرافیائی طور پر اسے عرب ممالک اور مشتعل نوجوان نے گھیرا ہوگا جنہوں نے قتل ہوتے دیکھے ہیں، جن کی تذلیل کی گئی ہے اور جنہیں زد و کوب کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے تعلیمی نظام اور صحت عامہ کے انفرااسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ ہوتے دیکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حالات یونہی جاری رہیں گے؟ اگر نہیں تو حالات کس طرح مختلف ہوں گے؟ جبکہ اس میں شامل مختلف گروہوں اور قوتوں کے کردار کو دیکھتے ہوئے تبدیلی کیسے آئے گی؟۔ تحریر: عارف حسن

یہ واضح ہوچکا کہ اسرائیل کی جنگ، صرف حماس کے خلاف نہیں تھی بلکہ وہ تو ’گریٹر اسرائیل‘ بنانے کے اپنے پروجیکٹ پر کارفرما تھا۔ چند بہادر اور مزاحمتی فلسطینیوں کے علاوہ تو غزہ اب مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ مغربی کنارے کی آبادی پر بھی اپنی زمینیں چھوڑنے کے لئے دباؤ ہے۔ اگرچہ لبنان میں بھی خاموشی ہے لیکن مشکلات کا سامنا کرنے والی حزب اللہ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اردن کی سلطنت تو پہلے ہی امریکی یورپی طاقتوں کے زیرِ اثر ہے۔

دوسری جانب شام کے دفاعی نظام کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے جبکہ ملک جزوی طور پر قبضے میں ہے۔ ایک بار پھر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ ’دریا سے سمندر تک‘ علاقے کو کنٹرول کررہا ہے، وہ زمین جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تحفے میں دی تھی۔ تاہم اسرائیل نے یہ زمین تشدد کے سہارے حاصل کی ہے۔

اسرائیل کی کامیابی کا سہرا امریکا کی فراہم کردہ فضائی قوت کو بھی جاتا ہے جوکہ خطے میں سب سے طاقتور فضائی فورس ہے اور اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اقوامِ متحدہ نے بھی اسرائیل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ سلامتی کونسل میں امریکا اور یورپی ممالک کی حمایت حاصل کرکے اسرائیل نے نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ انہوں نے اسرائیل کو عسکری اور مالیاتی امداد فراہم کیں جوکہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

صرف امریکا ہی سالانہ بنیادوں پر اسرائیل کو اربوں ڈالرز کے دفاعی ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز کے 12 ماہ میں امریکا نے اسرائیل کو 17.

9 ارب ڈالرز کی فوجی معاونت فراہم کی۔ دوسری جانب نسل کشی میں امریکا کے کرادر کو دیکھتے ہوئے سوڈان کے قحط، عراق اور شام میں غیرقانونی جنگ میں امریکی کردار کے حوالے سے سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

تاہم نسل کشی نے بہت سی چیزیں بدل کر رکھ دی ہیں۔ اس پورے المیے میں عالمی قوانین، معاہدوں اور بین الاقوامی اداروں کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ سیکولرازم اور انسانی حقوق جوکہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد ہیں، ان کی خلاف ورزی کی گئی جس کی وجہ سے دنیا میں شمال اور جنوب کی بنیاد پر شدید تقسیم پائی جاتی ہے۔

یہ تو واضح ہوچکا ہے کہ سفید فام اکثریت رکھنے والے مغربی ممالک اب اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ دنیا کی قیادت کرسکیں۔ یہ بھی سامنے آچکا ہے کہ یہود مخالف اور ہولوکاسٹ کے قوانین صہیونیوں اور اسرائیل کو تحفظ فراہم کرتے ہیں کہ جن کے تحت ان پر تنقید کرنے والوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا بلکہ انہیں ٹرول کیا جاتا ہے۔

یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ اب مغربی میڈیا قابلِ بھروسہ نہیں رہا۔ یہ سفید فاموں کا ساتھ دیتا ہے جبکہ ان کی جانبداری کھل کر سامنے آچکی ہے۔ بہت سے لوگ مغربی میڈیا پر الزامات لگاتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولنے کے لیے رشوت لیتے ہیں جبکہ ان کے نمائندگان امریکا اور یورپ سے مفادات کے عوض جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں۔ اسرائیل-غزہ جنگ سے یہ بھی واضح کیا کہ مسلم ممالک کو اسلامی دنیا کے تصور کو فروغ دینے کے بجائے صرف اپنے قومی مفادات سے غرض ہے۔

مغربی ممالک بالخصوص امریکی عوام سمجھتے ہیں کہ ان کے انتخابات اور پالیسیز اسرائیل کی حمایت کرنے والی بڑی عالمی کمپنیز سے متاثر ہیں جبکہ امریکی خارجہ پالیسی بڑی حد تک اسرائیل کے مفادات پر مبنی ہے۔ عوام بالخصوص امریکا میں مایوسی بھی پائی جاتی ہے کیونکہ شہریوں کا گمان ہے کہ ان کے ٹیکس کی رقوم اسرائیل کو مالی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی میں استعمال ہو رہی ہے۔

اتنے عرصے میں یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ امریکا میں نوجوانوں کی اکثریت، اسرائیل کی نسل کش مہم کے خلاف ہے جبکہ امریکا اور یورپی ممالک کے مرکزی شہروں میں واقع کالجز کے کیمپسز اور سڑکوں پر جس طرح نوجوانوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے، اس نے مغربی نوجوانوں کی سوچ کی عکاسی کی۔ یہ مظاہرے مغربی ممالک کی تاریخ میں منفرد اہمیت کے حامل ہیں۔

نوجوان اس بات پر بھی برہم ہیں کہ اسکول اور یونیورسٹیز میں انہیں جن اقدار کا درس دیا جاتا ہے، دنیا تو ان سے رہنمائی لیتی ہی نہیں۔ وہ اب رہنمائی کے لیے کسی نئے متبادل کی تلاش میں ہیں۔ دوسری جانب پرانے سیاست دان میڈیا کے تعاون سے معاملات جیسے ہیں، انہیں ویسے ہی رکھنے کی کوششوں میں ہیں۔ مغرب کے لیے نسل کشی کی حمایت کا مقصد ’گریٹر اسرائیل‘ کا قیام تھا جوکہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے بےپناہ وسائل کو کنٹرول کرے۔

تاہم ’گریٹر اسرائیل‘ ایک ایسی آبادی پر مشتمل ہوگا جہاں اکثریت اسرائیل اور مغرب کی پالیسیز کے خلاف ہوگی جبکہ وہ ایک متبادل عالمی آرڈر کی تلاش میں ہوں گے۔ جغرافیائی طور پر اسے عرب ممالک اور مشتعل نوجوان نے گھیرا ہوگا جنہوں نے قتل ہوتے دیکھے ہیں، جن کی تذلیل کی گئی ہے اور جنہیں زد و کوب کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے تعلیمی نظام اور صحت عامہ کے انفرااسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ ہوتے دیکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حالات یونہی جاری رہیں گے؟ اگر نہیں تو حالات کس طرح مختلف ہوں گے؟ جبکہ اس میں شامل مختلف گروہوں اور قوتوں کے کردار کو دیکھتے ہوئے تبدیلی کیسے آئے گی؟

یہ مضمون ڈان اخبار میں شائع ہوا ہے
اصلی لنک پیش خدمت ہے
https://www.dawn.com/news/1885569/now-what

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مکمل طور پر تباہ گریٹر اسرائیل اسرائیل کی اسرائیل کو کے خلاف یہ بھی ہیں کہ ہوں گے

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان