محمود اچکزئی کا پی ٹی آئی کو مذاکرات ختم کرنے، نواز شریف سے قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
اسلام آباد:تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے مذاکرات کی مخالفت کردی اور ساتھ ہی انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے قومی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا مشورہ دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ کیوں مذاکرات کر رہی ہے، حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مطلب ہے آپ ناجائز حکومت کو جائز قرار دے رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کو اب کہنا چاہیے کہ ’بس بہت ہوگیا‘۔
ان کا کہناتھا کہ شہباز شریف سے استعفیٰ لے کر ملک میں قومی حکومت قائم کی جائے جب کہ عمران خان سمجھوتہ نہیں کر رہا، اگر وہ سمجھوتہ کرے تو دوبارہ ملک کا وزیراعظم بن جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نہیں ہٹانا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو مدت پوری کرنے دینی چاہیے تھی، ذاتی طور پر میں اس کے حق میں آج بھی نہیں ہوں، ہمیں انہیں اقتدار پورا دینا چاہئے تھا، اگر ایسا ہوتا تو آج عمران خان چار سیٹیں بھی نہیں جیت پاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع حالات کی ضرورت تھی، پارلیمنٹ تکلیف دہ فیصلے بھی کرتا ہے، یہی پارلیمنٹ کی بالادستی ہے،
ایک سوال کے جواب میں پیپلزپارٹی رہنما نے کہا کہ وفاقی حکومت مدت پوری کرے گی یا نہیں اس کا علم نہیں، دعا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے وزرا اور ایم این ایز اپنی پنجاب حکومت سے بہت پریشان ہیں، وزیراعلی مریم نواز ان سے ملنے کے لیے تیار نہیں، مجھے وزرا نے بتایا کہ ہم آج تک وزیراعلی سے مل نہیں سکے۔
پی ٹی آئی نے 190 ملین کیس کی تفصیلات فیصلہ آنے سے پہلے ہی لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا اور چیف جسٹس سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو معلوم تھا کہ فیصلہ کیا آنا ہے، یہ تو ایسے ہی ہے کہ امتحان سے پہلے پیپر آوٹ ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے اور تحقیقات ہونی چاہئے کہ عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے لوگوں کو کیسے پتہ تھا کہ کیا سزا آنی ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بالترتیب 14 سال اور 7 سال کی سزائیں سنائی ہیں، بانی پر 10 لاکھ اور اہلیہ پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
بعد ازاں اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا تھا، جس میں کہا گیا کہ وکلائے صفائی استغاثہ کی شہادتوں کو جھٹلا نہیں سکے، استغاثہ کا مقدمہ دستاویزی شہادتوں پر تھا، جو درست ثابت ہوئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ پی ٹی ا ئی قومی حکومت کا مطالبہ نے کہا کہ انہوں نے حکومت کے سے پہلے شریف سے تھا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔