مخالفین کو سمجھ نہیں آرہی کہ پنجاب میں ترقی کیسے ہو رہی ہے،مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ مخالفین کو سمجھ نہیں آرہی کہ پنجاب میں ترقی کیسے ہو رہی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈیرہ غازی خان کے طلبا میں سکالرشپس تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سکالرشپس بچوں کی محنت کا صلہ ہے اور میں تمام بچوں سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی ہوں۔ سکالرشپس حاصل کرنے والے طلبا کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اتنا پیار مل رہا ہے کہ میں آپ کا شکریہ بھی ادا نہیں کرسکتی۔ میں ہر ڈویژن میں خود گئی اور بچوں کو سکالرشپس دیں۔ طلبا کو 30 ہزار سکالرشپس میرٹ پر دی گئیں اور اگرایک سکالرشپ بھی سفارش پر دی گئی تو میں استعفیٰ دے کر گھر چلی جاؤں گی۔
مریم نواز نے کہا کہ مخالفین کا کام صرف پراپیگنڈا کرنا ہے اور مخالفین کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کیا ہو رہا ہے۔ مخالفین سوچ رہے ہیں کہ میری اور طلبا کی محبت کا کیا جواب دیں جبکہ کل مخالفین کہہ رہے تھے کہ یہ سب ڈرامہ ہوتا ہے۔ مخالفین نے جھوٹ میں آنکھ کھولی اور بڑے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ میرے کندھوں پر آپ کے خواب پورے کرنے کا بوجھ ہے اور طلبا کی تعلیم میں بہتری کے لئے محنت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور تمام لوگ پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے طلبا کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام طلبا خود کو بدتہذیبی اور بدتمیزی سے دور رکھیں۔ اور میں کبھی نہیں کہوں گی کہ کسی کو گالی دو۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ کا بازار گرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی خان میں جلد لیپ ٹاپ اور ای بائیکس سکیم بھی شروع کریں گے۔ پاکستان ہماری ریڈ لائن اور شہدا ہمارا فخر ہیں جبکہ جن کے پاس بتانے کے لئے کارکردگی نہیں وہ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ سچ تسمے باندھ رہا ہوتا ہے اور جھوٹ دنیا کا چکر لگا کر واپس آجاتا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ گالم گلوچ، پگڑیاں اچھالنا اور جھوٹ بولنا میرا کوئی بچہ یہ سوچے گا بھی نہیں اور کبھی کسی کے بہکاوے میں نہ آنا۔
خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب پر حملہ کیا گیا تو سر شرم سے جھک گیا۔ بچوں کے ہاتھوں میں پٹرول بم دینے والے پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اور 10 سال سزا پانے والے بچوں کو ورغلانے والے ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم موٹرویز بناتے ہیں اور یہ کہتے ہیں آؤتوڑ دو سب کچھ۔ تذلیل کی زبان ان کو مبارک ہو لیکن ہم تدریس کی زبان والے ہیں۔ میں کسی بدترین مخالف کو بھی گالی دینے کا نہیں کہوں گی اور یہ نہیں ہوسکتا کہ میری حکومت نہیں تو آگ لگا دو۔ ملک میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد پر آگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے نہیں ا ہے اور
پڑھیں:
کلچر کب تہذیب بنتا ہے
سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔
ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔
سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔
شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔
تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔
ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔
تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔
آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔
تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔