وزیراعظم نے پی ٹی آئی مطالبات پر غور کے لیے ذیلی کمیٹی بنادی، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب دینے کے لیے ذیلی کمیٹی بنادی ہے، جو قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد جواب مذاکراتی کمیٹی کے بیٹھک میں جمع کروائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات ہمارے اختیار سے بڑھ کے ہیں، پی ٹی آئی نے ضرورت سے زیادہ اور بے تُکے مطالبات پیش کیے ہیں، پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ ہم تمام لا اینڈ فورسز ایجنسیز کے گلے میں پٹہ ڈال کے اس کو پکڑا دیں تاکہ یہ ان کو جھٹکے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں سے مذاکرات حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں؟
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو ان چیزوں کا خود بھی خیال کرنا چاہیے، وہ خود سمجھدار ہیں، 4 سال انہوں نے حکومت کی ہے، انہیں وہی بات کرنی چاہیے جو بات آگے بڑھائی جاسکتی ہے، بات اگر آگے بڑھنی ہے تو حال کو بھی سامنے رکھنا ہے، حال کو آپ آگے پیچھے نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے جو بھی مذاکرات ہورہے ہیں، حکومت سے ہی ہورہے ہیں، پی ٹی آئی کے لیے مذاکرات کا کوئی دوسرا دروازہ نہیں کھلا، پی ٹی آئی نے مذاکراتی بیٹھک سے قبل ہی اپنے مطالبات میڈیا کے سامنے رکھ دیے، ہم نے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ وہ میڈیا کے سامنے زیادہ بات نہیں کرے گی، اگر وہ ایسا کرے گی تو ہمیں بھی مجبوراً بات کرنی پڑے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتی ہے تو سوشل میڈیا پر سیکیورٹی اداروں کے خلاف مہم جوئی بند کردے، اس سے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی
رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب دینے کے لیے ذیلی کمیٹی بنادی ہے، جس میں مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے، ذیلی کمیٹی قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اگلی مذاکراتی بیٹھک میں جواب جمع کروائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے درمیان اصل اختلاف جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے ٹرمز آف ریفرنس پر ہے، اگر ٹرمز آف ریفرنس پر اتفاق ہوگیا تو جوڈیشل کمیشن بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسٹیبلشمنٹ پاکستان پی ٹی آئی رانا ثنااللہ مذاکرات مسلم لیگ ن وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ پاکستان پی ٹی ا ئی رانا ثنااللہ مذاکرات مسلم لیگ ن رانا ثنااللہ نے پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی کے کے مطالبات نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :