دودھ کی پیداوار:پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک قرار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
فوڈ انڈسٹرجامعہ زرعیہ فیصل آباد کی کلیہ زرعی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے بتایاکہ پولٹری انڈسٹری کپاس کے بعد ملک کی دوسری بڑی صنعت کا درجہ رکھتی ہے جس سے 120ملین افراد وابستہ ہیں جبکہ مجموعی طور پر گوشت کی پیداوار کا 24.8 فیصد مرغی کے گوشت سے حاصل کیا جاتا ہے مگر اس کے باوجود ہم بین الاقوامی مارکیٹ میں گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں انتہائی نچلے درجے پر موجود ہیں جبکہ عالمی سطح پر 24کروڑ سے زائد صارفین کے ساتھ پاکستان دنیا کی آٹھویں بڑی صارف مارکیٹ بن چکا ہے نیز پاکستان کے صنعتی شعبے میں فوڈ انڈسٹری کا حصہ 27 فیصد ہے جو اس شعبہ میں مجموعی طور پر روز گار کا 18 فیصد حصہ ڈال رہا ہے اسی طرح پاکستان 55بلین لیٹر سالانہ دودھ کی پیداوار حاصل کرکے دنیا کا پانچواں بڑا ملک قرار پایا ہے لیکن فوڈ پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کا نظام دستیاب نہ ہونے کیو جہ سے صرف4سے5 فیصد دودھ پراسیس کیا جا رہا ہے۔انہوں نے’بتایاکہ وطن عزیز میں 5253 ٹن تازہ پھل پیدا ہو رہے ہیں مگر ہمارے پاس پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی اور فوڈ انجینئرنگ کانظام نہ ہونے کی و جہ سے زیادہ تر پیدا وار ضائع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب ہمیں عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کیلئے نئے نظام کو اپنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے 100 ممالک میں 94 ہزار سے زائد گلوبل گیپ پروڈیوسر اپنی پیداواریت کو بیرونی منڈیوں میں بھجوا رہے ہیں اور آنے والے سالوں میں ان کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک برطانوی معیارات خصوصاً بی آر سی کے تحت اپنی مصنوعات کی درجہ بندی کر سکتے ہیں اس سلسلے میں اب تک 73ممالک سے 17ہزار بی آ ر سی مستند پروڈیوسرز اپنی مصنوعات فروخت کیلئے پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوڈ انجینئرنگ کی پوری دنیا میں بہت مانگ ہے لہٰذا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی جانب سے اس کا آغازایک اچھاا قدام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کی میزبانی پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شاندار انتظامات کو سراہا۔
https://x.com/ForeignOfficePk/status/2080577745026007042
اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ پر رکن ممالک کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایس سی او گزشتہ پچیس برس کے دوران خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اسلام آباد مذاکرات اور اس کے نتیجے میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیںمسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب
انہوں نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
وزیر خارجہ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں