چین کے سونے کے ذخائر 2024 کے آخر تک ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
چین کے سونے کے ذخائر 2024 کے آخر تک ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2025 سب نیوز
بیجنگ (شِنہوا) چین کے مرکزی بینک کےپاس موجود سونے کے ذخائر میں 2024 کے دوران 44.17 ٹن کا اضافہ ہوا ۔
اس سے مجموعی ذخائر 2,279.57 ٹن کی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئےاور چین دنیا کا چھٹا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ رکھنے والا ملک بن گیا۔ چائنہ گولڈ ایسوسی ایشن کے جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران چین میں سونے کی پیداوار 377.
اس کے علاوہ 2024 کے دوران درآمد شدہ خام مال سے سونے کی پیداوار 156.864 ٹن رہی جو گزشتہ برس کی نسبت 8.83 فیصد زیادہ تھی۔ اگر سونے کی پیداوار کے اس حصے کو بھی شامل کرلیا جائے تو ملک بھر میں سونے کی مجموعی پیداوار 534.106 ٹن رہی جو گزشتہ برس کی نسبت 2.85 فیصد زائد تھی۔ چین کے سونے کے بڑے گروپس کی بیرون ملک کانوں نے 2024 کے دوران 71.937 ٹن سونا پیدا کیا جو گزشتہ برس کی نسبت 19.14 فیصد اضافہ تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔