ماتلی: 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
ماتلی (نمائندہ جسارت) چیئرمین میونسپل کمیٹی حاجی رضوان احمد قائم خانی کی زیر صدارت منتخب بلدیاتی قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شہر کے منتخب و نامزد کونسلرز نے شرکت کی، اجلاس میں جاری ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا گیا اور کونسلرز سے نیو این آئی ٹی کے تحت کرائے جانے والے ترقیاتی کاموں کے لیے اسکیمیں بھی طلب کی گئیں، کونسلرز نے اپنے وارڈوں میں کرائے جانے والی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اجلاس کے شرکاء کوبریفنگ بھی دی۔ اجلاس سے چیئرمین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2 سال میں موجودہ بلدیاتی قیادت کی جانب سے 3 بار این آئی ٹی کے تحت شہر میں 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کے ترقیاتی منصوبے پایا تکمیل تک پہنچ چکے ہیں، موجودہ بلدیاتی قیادت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ماتلی اور دیہات کے ان علاقوں میں بھی ترقیاتی کام کروائے ہیں جہاں 77 سال میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے، شہر کے پسماندہ علاقوں کو ترقیاتی کاموں میں ترجیح دی جا رہی ہے۔ میونسپل کمیٹی کی جانب سے چوتھی بار ترقیاتی اسکیمیں مکمل کروانے کے لیے تقریباً 6 کروڑ روپے مالیت کی این آئی ٹی کرانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جس کے لیے ہر وارڈ کے کونسلرز سے اسکیمیں طلب کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ میونسپل کمیٹی کو کم سے کم ایک ارب کی اسپیشل گرانٹ کا ترقیاتی پیکیج دے تو انشاء اللہ موجودہ بلدیاتی قیادت ترقیاتی کاموں کے حوالے سے شہر کو سندھ کا مثالی شہر بنادے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلدیاتی قیادت ترقیاتی کاموں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔