ورات کوہلی ڈومیسٹک کرکٹ کے ذریعے فارم میں واپس آنے کی جدوجہد میں مصروف
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
بھارت کے اسٹار کرکٹرز روہت شرما اور وراٹ کوہلی کا بُرا وقت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ دونوں کو قومی ٹیم میں جگہ بنائے رکھنے کے لیے انتہائی نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔ بُرے فارم کے باعث اُن کی کارکردگی کا گراف خطرناک حد تک نیچے آچکا ہے اور اب اُنہیں ڈومیسٹک کرکٹ کے ذریعے اپنی پوزیشن بہتر بنانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
وراٹ کوہلی نے رنجی ٹرافی میں واپسی کے لیے علی باغ (اتر پردیش) میں خصوصی تربیت لینے کے بعد مشق کی ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ سنجے بنگر کی نگرانی میں کوہلی نے اپنی بیٹنگ کی چند خامیاں دور کرنے کی کوشش کی ہے اور بیک فُٹ پر کھیلنے پر خاص توجہ دی ہے۔
رنجی ٹرافی میں واپسی سے قبل وراٹ کوہلی نے خصوصی ٹریننگ ضروری سمجھی۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کوہلی کی مصروفیات وڈیوز کی شکل میں وائرل ہوئی ہیں۔ آسٹریلیا میں حالیہ بارڈر گواسکر ٹرافی میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد کوہلی نے بیک فُٹ ورک بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔ یہ دراصل رنجی ٹرافی میں واپسی کی بھرپور تیاری تھی۔
سنجے بنگر نے کوہلی کو 16 گز کے فاصلے سے کرائی جانے والی گیندوں کو بیک فُٹ پر کھیلنے کی مشق کروائی ہے۔ تیزی گیندیں بہتر طور پر کھیلنے کے لیے کوہلی نے سیمنٹ کے سلیب پر کھیلنے کی خصوصی مشق کی۔
وراٹ کوہلی دہلی کی ٹیم کے لیے رنجی ٹرافی میچوں میں حصہ لیں گے۔ دی دہلی اینڈ ڈسٹرکٹس کرکٹ ایسوسی ایشن نے کوہلی کی واپسی کے لیے خصوصی تیاری کی ہے۔ ڈی ڈی سی اے کو توقع ہے کہ دہلی کی ٹیم کے آخری رنجی ٹرافی میچ میں 10 ہزار سے زائد شائقین آئیں گے۔ عوام کے لیے دو اسٹینڈ کھولے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رنجی ٹرافی ٹرافی میں پر کھیلنے کوہلی نے کے لیے
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔