چینی کمپنی اے آئی کی دنیا میں آتے ہی چھا گئی، میٹا اور چیٹ جی پی ٹی پیچھے رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
بیجنگ: چین کی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ جاری کر کے میٹا اور چیٹ جی پی ٹی جیسی بڑی فرموں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ایک طاقتور چینی AI کمپنی نے معروف امریکی فرموں کی طرف عائد کیے جانے والے الزامات کو گھبراہٹ قرار دیا اور سب کیلیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اسٹارٹ اپ DeepSeek نے پچھلے ہفتے اپنے اوپن سورس AI کا تازہ ترین ورژن جاری کیا، جو Meta اور ChatGPT تخلیق کار OpenAI جیسے ٹیک جنات کے بہترین ماڈلز کا مقابلہ کرتا ہے۔
فیس کے اعتبار سے بھی ڈیپ فیک اپنے صارفین سے کم پیسے لے رہا ہے جبکہ انہیں جدید سہولیات پیش کررہا ہے۔
ان صلاحیتوں کی وجہ سے ڈیپ سیک کو ایپل کے چارٹ میں پہلی پوزیشن حاصل ہوئی۔ ایمپلائمنٹ فورم بلائنڈ کو ایک پوسٹ میں میٹا کے ایک گمنام ملازم نے دعویٰ کیا کہ کمپنی کا جنریٹو مصنوعی ذہانت کا ڈویژن ڈیپ سیک پر "گھبراہٹ کے موڈ" میں تھا۔
ملازم نے لکھا کہ "انجینئر ڈیپ سیک کو الگ کرنے اور اس میں سے ہر چیز اور ہر چیز کو کاپی کرنے کے لئے بے چین ہو رہے ہیں۔ میں مبالغہ آرائی بھی نہیں کر رہا‘‘۔
سلیکون ویلی کے ماہرین نے خبردار کیا کہ یو ایس بگ ٹیک کے غلبے کو ڈیپ سیک سے خطرہ لاحق ہے، جو موجودہ اے آئی ڈیولپمنٹ کے طریقوں کا ایک سستا متبادل پیش کرتا ہے۔
فائنانشل ایڈوائزری فرم ڈی ویر گروپ کے چیف ایگزیکٹو نائجل گرین نے برطانوی جریدے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ ڈیپ سیک عالمی ٹیک لینڈ سکیپ میں خلل ڈال رہا ہے اور AI ہتھیاروں کی دوڑ کو بڑھا رہا ہے۔
میٹا کے چیف اے آئی سائنسدان یان لیکون نے ڈیپ سیک کے عروج کو تسلیم کیا، لیکن دعویٰ کیا کہ اسے کم خطرہ اور اوپن سورس ماڈلز کی طاقت کے زیادہ مظاہرے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اُدھر ڈیپ سیک نے تھوڑی دیر پہلے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ اُس کے سسٹم پر سائبر حملہ ہوا جس کی وجہ سے نئے صارفین کی رجسٹریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے صارفین کو یقین دہانی کرائی کہ اُن کا ڈیٹا محفوظ ہے جبکہ جلد ہی اس نقص کو دور کر کے پلیٹ فارم پر دوبارہ رجسٹریشن کھول دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار