رونا اور آنسوطبی لحاظ سے آپ کے لیے کس قدر مفید ؟جان کرآپ بھی حیران رہ جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
آنسو نہ صرف ایک جذباتی ردعمل ہیں بلکہ آنکھوں کی صحت اور مجموعی صحت کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آنسوؤں سے حاصل ہونے والے صحت کے فوائد درج ذیل ہیں:
1) آنسو آنکھوں کو نم رکھتے ہیں، خشکی اور جلن کو روکتے ہیں۔ یہ دھول، گرد اور دیگر ذرات کو آنکھوں سے خارج کردیتے ہیں جو داخل ہوچکے ہوتے ہیں.
2) آنسوؤں میں ایک کیمیکل لائزوزائیم ہوتا ہے۔ یہ اینٹی مائکروبیل خصوصیات والا انزائم انفیکشن سے بچاتا ہے۔ آنسو آنکھوں کے سطحی حصے کورنیا کو آکسیجن اور غذائی اجزاء بھی فراہم کرتے ہیں۔
3) رونا تناؤ کے ہارمونز جیسے کورٹیسول کے اخراج میں مدد کرتا ہے، راحت اور سکون کا احساس فراہم کرتا ہے۔
4) آنسو بہانا آکسیٹوسن اور اینڈورفنز جیسے کیمیکلز کے اخراج کو متحرک کرتا ہے جو موڈ کو بہتر کرسکتا ہے اور درد کو کم کرنے کا باعث ہوتا ہے۔
5) جذباتی طور پر متحرک کردہ آنسو اضطراری یا بیزل آنسوؤں کی اقسام سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان میں تناؤ سے متعلق ہارمونز اور زہریلے مواد کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ رونے سے جسم کو ان مادوں کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
6) آنسو بہانے سے پیراسیمپیتھیٹک اعصابی نظام فعال ہوتا ہے جس سے جسم کو آرام اور جسمانی درد کے احساس کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
7) آنسو آنکھوں کی صاف اور ہموار سطح کو برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتے ہیں جو تیز بصارت کے لیے ضروری ہے۔
8) آنسوؤں میں موجود لائزوزائیم اور دیگر پروٹین قدرتی دفاعی طریقہ کار فراہم کرتے ہیں جس سے آنکھوں میں انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کرتے ہیں ا نسوو ں ا نکھوں ہوتا ہے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔