کراچی، سپر ہائی وے پر دو مختلف ٹریفک حادثات میں ایک شخص جاں بحق، 5 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
کراچی:
ایم نائن موٹر وے پر دو مختلف ٹریفک حادثات میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہوگئے۔
پہلا حادثہ تین ٹرالروں اور دوسراحادثہ دو کاروں کے درمیان ٹکرانے سے ہوا۔
ریسیکو ادارے ایدھی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایم نائن موٹر وے کے مختلف مقامات پرفضا میں نمی زیادہ ہونے کے باعث اوس پڑرہی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ کے مختلف حصوں پر پھسلن ہوگئی ہے۔
پھسلن کی وجہ سے گاڑیاں ٹکرائیں اور یہ دونوں حادثات رونما ہوئے۔
امدادی سرگرمیوں کے بعد جاں بحق اور زخمی افراد کو نجی اسپتال ٹول پلازہ منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی گئی۔
یہ تمام گاڑیاں حیدرآباد سے کراچی آرہی تھیں، حادثات کی وجہ سے ایم نائن پر ان مقامات پر ٹریفک کی روانی میں خلل پڑا۔
امدادی کام مکمل ہونے کے بعد ایم نائن پر ٹریفک مکمل طور پر بحال ہوگیا، ایدھی حکام نے پہلا حادثہ کے حوالے سے بتایا کہ ایم نائن موٹر وے پر گڈاپ سٹی تھانے کی حدود سپر ہائی وے حیدرآباد سے کراچی آتے ہوئے ایک نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے قریب تین ٹرالروں کے درمیان تصادم ہوگیا۔
حادثے میں ایک شخص ٹرک میں پھنس کر جاں بحق تین افراد زخمی ہوگئے، امدادی سرگرمیوں کے بعد ہلاک و زخمیوں کو ایمبولینسز کے ذریعے نجی اسپتال ٹول پلازہ منتقل کیا گیا۔جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی گئی ۔
ایدھی حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 40 سالہ لیاقت سے ہوئی ۔ زخمیوں میں 40 سالہ اسد ،36 سالہ ریاض اور 24 سالہ انیس شامل ہیں۔
ایدھی حکام نے دوسرے حادثہ کے حوالے سے بتایا کہ ایم نائن موٹر وے سپر ہائی وے حیدرآباد سے کراچی آتے ہوئے جوکھیوں موڑ کے قریب دو کاروں میں تصادم ہوگیا ۔
حادثے میں دو افراد زخمی ہوگئے، ایدھی حکام کے مطابق حادثہ میں دونوں زخمی افراد کوایمبولینسز کے ذریعے طبی امداد کے لیے نجی اسپتال ٹول پلازہ منتقل کیا گیا۔حادثہ میں زخمی ہونے والے دونوں افراد کی شناخت 26 سالہ نصر اللہ اور 28 سالہ مختیار سے ہوئی۔
پولیس ان حادثات کے حوالے سے تحقیقات کررہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم نائن موٹر وے ایدھی حکام
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں