واشنگٹن: فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر مسافر طیارہ تباہ، 18 لاشیں دریا سے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
واشنگٹن ایئر پورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر ٹکرا گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرانے کے بعد مسافر طیارہ پوٹومیک دریا میں گر گیا جس کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق فضائی حادثے کے بعد پوٹومیک دریا سے 18 لاشیں نکال لی گئیں، حادثہ دریائے پوٹومیک کے اوپر رن وے کے قریب پیش آیا۔ مسافر طیارے سے ٹکرانے والا بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز پر تھا۔
امریکن ایئر لائنز کی پرواز یو ایل 5432 کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچی تھی۔
حادثے کے بعد ریگن نیشنل ایئر پورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فضائی حادثے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ فضائی حادثے سے متعلق پوری طرح آگاہ کیا گیا ہے، صورتِ حال کی نگرانی کر رہا ہوں، جیسے ہی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی فراہم کی جائیں گی۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں تقریباً 60 مسافر سوار تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فوجی ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔