واشنگٹن میں فوجی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے میں تصادم19ہلاکتوں کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 جنوری ۔2025 )امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی فضا میں ایک مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر میں تصادم ہوا ہے مسافر طیارہ رونلڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ کرنے کے لیے نیچے آ رہا تھا جب دریائے پوٹومک پر ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گیا حکام نے اب تک 19لاشیں پانی سے نکالنے کی تصدیق کی ہے.
(جاری ہے)
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکن ایئرلائن کے مسافر طیارے میں عملے کے چار ارکان سمیت 64 افراد سوار تھے جب کہ ہیلی کاپٹر میں تین اہلکار موجود تھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ریگن نیشنل ایئر پورٹ پر ہونے والے اندوہناک حادثے سے مکمل طور پر آگاہ ہیں صدر ٹرمپ کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے میں تصادم ایک بری صورتِ حال ہے جس سے بچنا چاہیے تھا دریائے پوٹومک کے قریب ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے جس کے 300 سے زائد رضار تعینات کیے گئے ہیں. امریکی نیشنل ویدر سروس نے سرد موسم میں دریائے پوٹومک میں پانی شدید ٹھنڈا ہونے کا انتباہ جاری کیا ہے حادثے کے بعد واشنگٹن کے رونلڈ ریگن ایئرپورٹ پر فضائی آپریشنز معطل کر دیے گئے واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باو¿زر نے کہا ہے کہ تصادم کے بعد مسافر طیارہ اور ہیلی کاپٹر دونوں پانی میں گرے ہیں انہوں نے تصدیق کی کہ طیارے میں 64 افراد جب کہ ہیلی کاپٹر میں تین اہلکار سوار تھے. مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر میں تصادم کے حادثے کے بعد رونلڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کو انتظامیہ نے بند کر دیا میٹرو پولیٹن واشنگٹن ایئرپورٹس اتھارٹی کے حکام نے کہا ہے کہ ریگن نیشنل ایئرپورٹ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 11 بجے تک بند رہے گا حکام کے مطابق اس علاقے میں موجود دیگر ہوائی اڈوں میں میں آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں. امریکہ کے ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری شون ڈفی نے کہا ہے کہ امدادی رضا کار انتہائی مشکل صورتِ حال اور ماحول میں کام کر رہے ہیں آرلنگٹن میں پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے انہوں نے بتایاکہ سچوئشن روم صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم سے بھی بات کی ہے جب کہ انہوں نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے بھی رابطہ کیا ہے انہوں نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ سے ہر طرح تعاون کا بھی اعلان کیا. دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی کے فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ جان ڈانیلی نے کہا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں 300 رضا کار حصہ لے رہے ہیں رونلڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئر پورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پوٹومک دریا میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے انہوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد پہلی امدادی یونٹ رات کو 8:58 منٹ پر حادثے کے مقام پر پہنچی تھی جس نے طیارے کو دریا میں پایا اور فوری ریسکیو سرگرمیاں شروع کر دیں جس کے بعد اس کا دائرہ وسیع کیا گیا. انہوں نے کہا کہ حادثے سے متعلق پہلا الرٹ 8 بجکر28 منٹ پر ملا تھا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی فوج کے ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے میں تصادم ایک بری صورتِ حال ہے انہوں نے کہا کہ جہاز ایک درست روٹ پر ایئر پورٹ کی جانب گامزن تھا ہیلی کاپٹر کافی دیر تک جہاز کی جانب سیدھا بڑھتا رہا یہ ایک صاف رات تھی جہاز پر روشنیاں جگمگا رہی تھیں ہیلی کاپٹر کیوں اوپر یا نیچے نہیں گیا انہوں نے کہا کہ کنٹرول ٹاور نے ہیلی کاپٹر کو کیوں نہیں بتایا کہ کیا کرنا ہے؟انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان میں مزید کہا کہ یہ ایک بری صورتِ حال ہے جس سے بچنا چاہیے تھا. مسافر طیارے سے ٹکرانے والا ہیلی کاپٹر امریکی فوج کا بلیک ہاک تھا نشریاتی ادارے ”سی این این“ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں کوئی بھی اعلیٰ عہدیدار سوار نہیں تھا اس میں تین اہلکار موجود تھے حکام نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر ورجینیا میں ایک فوجی اڈے سے اڑا تھا امریکہ کی فضائی کمپنی امریکن ایئر لائن کے سی ای او رابرٹ آئسم نے کہا ہے کہ طیارے کو امریکن ایئرلائن کے ماتحت ایک کمپنی پی ایس اے ایئر لائن آپریٹ کر رہی تھی انہوں نے بتایا کہ طیارہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر سے اس وقت ٹکرایا جب وہ واشنگٹن ڈی سی کے قریب رونلڈ ریگن ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والا تھا ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی جگہ پر ہوا چل رہی ہے پانی میں برف کے ٹکڑے ہیں اور وہاں بہت زیادہ روشنی نہیں ہے یہ غوطہ خوروں کے لیے بہت سخت حالات ہیں ہنگامی خدمات کے کارکن انتہائی تاریک اور سرد حالات میں مستعدی سے کام کر رہے ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فوجی ہیلی کاپٹر مسافر طیارے میں ہیلی کاپٹر میں نے کہا ہے کہ ہے انہوں نے نیشنل ایئر کے مطابق بتایا کہ نے بتایا حادثے کے کا کہنا جاری ہے کہا کہ کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔