امریکا طیارہ حادثہ: تحقیقات میں اہم پیشرفت، بلیک باکس مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا میں طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، دریائے پوٹومیک سے ایک بلیک باکس مل گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بلیک باکس مسافر طیارے کا ہے یا ہیلی کاپٹر کا اس کا تعین نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب المناک تصادم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں، رونالڈریگن ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور میں سٹاف کمی کا شکار تھا، حادثے کا شکار مسافر طیارے کا رن وے آخری لمحے تبدیل کرایا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر نےملٹری ہیلی کاپٹرکو 30 سیکنڈ قبل 2 بار پیغام بھیجا کہ طیارے کے راستے سے ہٹ جائیں، ہیلی کاپٹرکےپائلٹ نے کوئی جواب نہیں دیا، امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تربیتی مشن پر تھا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پتا چلائیں گے یہ تباہی کیسے ہوئی، یقینی بنائیں گے کہ ایسا کچھ دوبارہ نہ ہو، حادثہ ایک المیہ ہے،امریکی عوام غم میں ہیں، حادثے کے ذمہ دار فوجی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی اہلیت پر بھی سوال اٹھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری انتظامیہ ایوی ایشن سیفٹی کیلئے قابل افراد کو نامزد کرے گی،2016 میں وائٹ ہاؤس آنے کے بعد میں نے سیفٹی کو ترجیح دی، میں نے امریکا کی حفاظت کوپہلے رکھا، اوباما اور بائیڈن نے پالیسی کو ترجیح دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔