واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا میں طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، دریائے پوٹومیک سے ایک بلیک باکس مل گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بلیک باکس مسافر طیارے کا ہے یا ہیلی کاپٹر کا اس کا تعین نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب المناک تصادم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں، رونالڈریگن ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور میں سٹاف کمی کا شکار تھا، حادثے کا شکار مسافر طیارے کا رن وے آخری لمحے تبدیل کرایا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر نےملٹری ہیلی کاپٹرکو 30 سیکنڈ قبل 2 بار پیغام بھیجا کہ طیارے کے راستے سے ہٹ جائیں، ہیلی کاپٹرکےپائلٹ نے کوئی جواب نہیں دیا، امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تربیتی مشن پر تھا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پتا چلائیں گے یہ تباہی کیسے ہوئی، یقینی بنائیں گے کہ ایسا کچھ دوبارہ نہ ہو، حادثہ ایک المیہ ہے،امریکی عوام غم میں ہیں، حادثے کے ذمہ دار فوجی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی اہلیت پر بھی سوال اٹھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری انتظامیہ ایوی ایشن سیفٹی کیلئے قابل افراد کو نامزد کرے گی،2016 میں وائٹ ہاؤس آنے کے بعد میں نے سیفٹی کو ترجیح دی، میں نے امریکا کی حفاظت کوپہلے رکھا، اوباما اور بائیڈن نے پالیسی کو ترجیح دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل