Jang News:
2026-07-24@03:41:21 GMT

خیبر پختونخوا: رواں ماہ 10 دہشتگرد ہلاک، 72 گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT

خیبر پختونخوا: رواں ماہ 10 دہشتگرد ہلاک، 72 گرفتار

---فائل فوٹو

محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختون خوا کا کہنا ہے کہ رواں سال کے 1 ماہ میں صوبے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 72 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی خیبر پختون خوا نے 2023ء سے اب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2023ء میں دہشت گردوں کے خلاف 2 ہزار 531 آپریشن ہوئے، جن میں 300 دہشت گرد ہلاک ہوئے، 917 کو گرفتار کیا گیا جبکہ 44 کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی۔

2024ء: کے پی میں سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں 260 دہشتگرد مارے گئے

محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی جانب سے خیبر پختون خوا میں سال 2024ء کے دوران دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔

2024ء میں شدت پسندوں کے خلاف 3 ہزار 238 آپریشن کیےگئے، اس دوران دہشت گردوں کے قبضے سے 12 کلو سونا بھی برآمد ہوا۔

رواں سال 2025ء کے اس پہلے مہینے جنوری میں 179 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن میں 10 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 72 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

رواں ماہ لکی مروت میں کالعدم تنظیم کے 3 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں اضلاع کی سطح پر سینٹرل انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹرز قائم کیے گئے ہیں، سی ٹی ڈی کو جدید ہتھیاروں، آلات اور ڈرونز کیمرے فراہم کیے گئے ہیں، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی ریجنز کی تعداد 7 سےبڑھا کر 15 کر دی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کو گرفتار کیا دہشت گردوں کے سی ٹی ڈی کے خلاف

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار