وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پی ٹی آئی کی جڑیں عوام میں موجود ہیں، عمران خان کو سیاست سے مائنس نہیں کیا جا سکتا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی بری بات یہ ہے کہ یہ دوسری جماعت کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے۔ تحریک انصاف 10 دن بعد بھی مذاکرات کرے تو حکومت تیار ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں سیاسی ڈائیلاگ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے، پی ٹی آئی کے بعد حکومت کا بھی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی پارلیمانی جمہوری نظام سے ناواقف ہے، اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی، سیاستدان جب ٹیبل پر بیٹھتے ہیں تو بڑے بڑے مسائل کا حل نکل آتا ہے۔

مشیر وزیراعظم نے کہاکہ میری نظر میں سیاسی طاقتوں کو ہر صورت ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، نواز شریف کی ہدایت پر ہی حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیے۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے کہا تھا ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکے گا، اگر وہ منظوری نہ دیتے تو ہم کیسے بات چیت کر سکتے تھے۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ اگر تحریک انصاف نے 9 مئی اور 26 نومبر سے سبق نہیں سیکھا تو پھر یہ 8 فروری کو بھی آکر دیکھ لیں۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو مذاکرات سے بھاگنا نہیں چاہیے تھا، ایسا نہیں تھا کہ ہم چوتھی نشست میں ان کو صاف جواب دینے جارہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں ہم مذاکرات کے ذریعے ملک کو آگے لے جانا چاہتے ہیں مگر پی ٹی آئی سنجیدہ نہیں، وزیراعظم

واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ختم ہوگئے ہیں، پہلے پی ٹی آئی نے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ آج حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اہم رکن عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بات چیت کا عمل ڈیڈلاک کا شکار نہیں بلکہ ختم ہوگیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پارلیمانی کمیشن جمہوری نظام جوڈیشل کمیشن حکومت پی ٹی آئی مذاکرات رانا ثنااللہ سیاست سیاسی عمل عمران خان نواز شریف وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پارلیمانی کمیشن جمہوری نظام جوڈیشل کمیشن حکومت پی ٹی ا ئی مذاکرات رانا ثنااللہ سیاست سیاسی عمل نواز شریف وی نیوز انہوں نے کہاکہ رانا ثنااللہ کہ پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے