Daily Ausaf:
2026-07-24@16:17:23 GMT

اے آئی فیچر سے لیس سام سنگ گلیکس ایس 25 سیریز متعارف

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT

سیئول(نیوز ڈیسک)جنوبی کوریا کی اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنی سام سنگ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) فیچرز سے لیس ’گلیکسی ایس 25‘ سیریز کے تین فونز متعارف کرادیے۔

کمپنی نے گزشتہ ہفتے امریکا میں فونز کو متعارف کرایا اور متعدد ممالک میں فونز کو پری آرڈر فروخت کے لیے بھی پیش کیا۔

کمپنی نے فوری طور پر کسی بھی ملک میں فونز کو مارکیٹ میں پیش نہیں کیا، تاہم یکم فروری کے بعد فونز کو متعدد ممالک کے مارکیٹس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

کمپنی کی جانب سے ’گلیکسی ایس 25، گلیکسی ایس 25 پلس اور گلیکسی ایس 25 الٹرا‘ کو پیش کیا گیا ہے۔

تینوں میں سے سب سے اہم ترین فون ’گلیکسی ایس 25 الٹرا‘ ہے جب کہ سب سے سستا ترین فون ’گلیکسی ایس 25‘ ہے۔

کمپنی نے ’گلیکسی ایس 25 الٹرا‘ کو 200 میگا پکسل مین بیک کیمرے کے ساتھ پیش کیا ہے جب کہ باقی دونوں فونز میں مین کیمرے 50 میگا پکسلز کے دیے گئے ہیں۔

تینوں فونز کو اینڈرائیڈ 15 کے آپریٹنگ سسٹم میں پیش کیا گیا ہے جب کہ تمام فونز میں اے آئی فیچرز بھی دیے گئے ہیں۔

گلیکسی ایس 25 سیریز میں گوگل کے جیمنائی کو ڈیفالٹ اے آئی ٹول کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور جیمنائی سے بوٹ سے بات کرنے کے لیے سائیڈ میں خصوصی بٹن بھی دیا گیا ہے۔

گلیکسی ایس 25 سیریز میں فنگر پرنٹ کے ساتھ دیے گئے بٹن میں جیمنائی کا ڈفالٹ آپشن بھی دیا گیا ہے، جسے کلک کرنے سے صارفین براہ راست جیمنائی کے بوٹ پر چلے جائیں گے۔

تینوں فونز کے کیمرا ٹیکنالوجی میں بھی اے آئی فیچرز اور ٹولز دیے گئے ہیں جب کہ تینوں فونز کو مختلف میموری ماڈیولز میں پیش کیا گیا ہے۔

تینوں فونز کے مختلف ماڈیولز کی قیمت بھی مختلف رکھی گئی ہے جب کہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس بار گلیکسی ایس 25 سیریز کے فونز کی تمام ٹیکنالوجی کو پہلے سے زیادہ بہتر اور تیز کردیا گیا ہے۔

گلیکسی ایس 25 سیریز کے تینوں فونز کو کمپنی کی ویب سائٹ سے پری آرڈر خریدا جا سکتا ہے، تاہم پاکستانی میں بھی رواں ماہ کے وسط تک فونز کو مارکیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

گلیکسی ایس 25 سیریز کا سب سے سستا فون پاکستانی 2 لاکھ 76 ہزار جب کہ سب سے مہنگا فون 4 لاکھ 32 ہزار روپے کی رقم میں پری آرڈر دستیاب ہے۔

فونز کو پری آرڈر فروخت کے لیے پیش کرتے وقت کمپنی نے تمام فونز پر ڈسکاؤنٹ بھی دے رکھا ہے، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ فونز کو مارکیٹ میں پیش کرتے وقت ان کی قیمت میں مزید رعایت دی جائے گی۔
مزیدپڑھیں:نام نہاد دوست نما دشمن کچھ بھی کرلیں انہیں قوم کے تعاون سے شکست ضرور ملے گی، آرمی چیف

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: گلیکسی ایس 25 سیریز تینوں فونز کیا گیا ہے ہے جب کہ دیے گئے میں پیش فونز کو پیش کیا اے ا ئی

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • سام سنگ گلیکسی ایس 27 کے کیمرا فیچرز لیک، الٹرا ماڈل میں 50 میگا پکسل سینسر متوقع
  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک