پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کا راج، موٹرویز بند، فلائٹ آپریشن متاثر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب کے مختلف علاقوں میں دھند کا راج، لاہور سمیت وسطی پنجاب کے مختلف شہروں میں شدیددھند کے باعث موٹر ویز بند، فلائٹ آپریشن بھی متاثر۔ سیالکوٹ میں شدید دھند کے باعث فلائٹ آپریشن متاثرہوگیا
جبکہ کویت سے سیالکوٹ کی پرواز پی کے 240 کو لاہور اتار لیا گیا۔ ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم 2 لاہور سےہرن مینار جبکہ ایم 3 فیض پور سے سمندری تک بند کردی گئی، لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم 11 پر بھی ٹریفک کا داخلہ بند کردیا گیا جبکہ ایم ٹو اور ایم تھری اور قومی شاہراہوں پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔
پاکستان میں آج بروز پیر، 3 فروری 2025 سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔