Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:49:15 GMT

چیٹ جی پی ٹی کے لیے نیا ’ڈیپ ریسرچ‘ ٹول متعارف

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT

چیٹ جی پی ٹی کے لیے نیا ’ڈیپ ریسرچ‘ ٹول متعارف

اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کے لیے نیا ’ڈیپ ریسرچ‘ ٹول متعارف کرادیا، نئے ٹول کے مطابق چیٹ جی پی ٹی اب کئی گھنٹوں کا کام چند منٹوں میں کر سکتا ہے۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ آپ چیٹ جی پی ٹی کو ایک پرامپٹ دیں تو چیٹ جی پی ٹی ویب سرچ کے ذریعے سینکڑوں آن لائن ذرائع سے معلومات نکال کر ایک تحقیقاتی تجزیہ تیار کردے گا۔

اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت کا سسٹم ہے جو مختلف پیچیدہ اور قیمتی کام انجام دے سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ٹول کا مقصد گہرے تحقیقی کاموں کے لیے ایک مؤثر حل پیش کرنا ہے۔

الٹ مین نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اوپن اے آئی ایک نئی قسم کے ہارڈویئر کی ترقی پر کام کر رہا ہے جو مصنوعی ذہانت کو مزید مؤثر بنا سکے گا اور اس کے لیے ایپل کے سابق چیف ڈیزائن آفیسر جونی آئیو کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ