اسٹاک ایکسچینج میں مندی ، 809 پوائنٹس کمی کے بعد مارکیٹ ایک لاکھ 12 ہزار پوائنٹس کی حد بھی کھو بیٹھی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
کراچی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز بھی مندی کا رجحان رہا ، 100 انڈیکس ایک لاکھ 12 ہزار پوائنٹس کی حد بھی کھو بیٹھا۔
کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کاروبار کے آغاز پر حصص مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس بڑھ کر ایک لاکھ 13 ہزار 649 پوائنٹس کی حد کو چھو گیا۔
بعدازاں اسٹاک ایکسچینج منفی زون میں چلی گئی ، ٹریڈنگ کے اختتام پر 809 پوائنٹس کی کمی کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 100 انڈیکس ایک لاکھ 11 ہزار 935 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ہے۔ کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران شدید مندی دیکھنے میں آئی ، 1510 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس ایک لاکھ 12 ہزار 745 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں پوائنٹس کی ایک لاکھ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔