عید کے بعد امتحانات کا انعقاد کیا جائے، پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے وزیر تعلیم سندھ اور وزیر برائے جامعات و بورڈ سے جماعت نہم و دہم، انٹر سال اول اور دوم کے سالانہ امتحانات 2025 کے شیڈول پر فوری نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔
ایسوسی ایشن نے رمضان المبارک کے مہینے میں 15ویں روزے سے امتحانات لینے کے فیصلے کو طالب علموں کے مفاد میں نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران امتحانات کا شیڈول غیر مناسب ہے۔
پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے چیئرمین انور علی بھٹی اور جنرل سیکریٹری محمد عالم شیر اعوان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ رمضان کے دوران 15 روزے سے امتحانات کا انعقاد طلباء اور اساتذہ برادری دونوں کےلیے ذہنی دباؤ اور جسمانی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
اس دوران بے شمار طالب علم، اساتذہ اور حکومتی عملہ اعتکاف جیسے روحانی عمل میں مصروف ہو سکتے ہیں، جس سے امتحانات کی تیاری اور اس کا انعقاد متاثر ہو سکتا ہے۔ طالب علموں کے بہتر مفاد کے لئے عید کے بعد امتحانات کا انعقاد کیا جائے۔
ایسوسی ایشن نے وزیر تعلیم سندھ اور وزیر جامعات و بورڈ سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا جائزہ لیں اور رمضان کے دوران امتحانات کے شیڈول پر نظر ثانی کریں تاکہ طلباء کے لیے ایک بہتر اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں طلباء کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔
پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیر تعلیم سندھ اور وزیر جامعات و بورڈ اس درخواست پر فوری طور پر عمل کریں گے اور طلباء کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن نے امتحانات کا کا انعقاد
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔