تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے صدر ایوب مغل نورانی نے کہا کہ جمعیت علمائے پاکستان کا مقصد پاکستان میں نظام مصطفی کا نفاذ اور مقام مصطفی کا تحفظ ہے، ملک پاکستان موجودہ حالات میں بے شمار مسائل میں گھر چکا ہے، ملک کے تمام مسائل کا حل نظام مصطفی کے نفاذ میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان نورانی کا انتخابی اجلاس جامعہ یوسفیہ مظہر العلوم معصوم شاہ روڈ ملتان میں منعقد ہوا، صدارت جنوبی پنجاب کے صدر علامہ ایوب مغل نورانی نے کی جبکہ ضلعی سیکرٹری جنرل پروفیسر فضل حبیب اکبر اور ناظم الیکشن رانا مرید ظہوری نے نگرانی کی، اجلاس میں صوبائی و ضلعی عہدیداروں کا چناو عمل میں لایا گیا، جس میں پیر اکبر شاہ زبیری کو جنوبی پنجاب کا نائب صدر، غوث بخش فریدی کو جوائنٹ سیکرٹری اور صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی کو جمعیت علمائے پاکستان نورانی صوبہ پنجاپ کا ناظم اطلاعات و نشریات منتخب کرلیا گیا، جبکہ ضلع ملتان کی باڈی میں سرپرست اعلی پروفیسر قاری سلیم اشرف قادری، صدر علامہ طارق ہاشمی، نائب صدر علامہ عبدالمجید باروی، سینیر نائب صدر سید وسیم شاہ بخاری، جنرل سیکرٹری سید حافظ غلام دستگیر بخاری کو منتخب کیا گیا۔

 تقریب میں قائدین نے نئے منتخب ہونے والے عہدے داران کو خصوصی مبارکباد پیش کی، تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے صدر ایوب مغل نورانی نے کہا کہ جمعیت علمائے پاکستان کا مقصد پاکستان میں نظام مصطفی کا نفاذ اور مقام مصطفی کا تحفظ ہے، ملک پاکستان موجودہ حالات میں بے شمار مسائل میں گھر چکا ہے، ملک کے تمام مسائل کا حل نظام مصطفی کے نفاذ میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ہمارے اکابرین کی انتھک محنت کا ثمر ہے اور اس میں نظام مصطفی کے نفاذ کے لیے آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھیں گے، آنے والی نسلوں کو اس عظیم جدوجہد میں اپنے ہمقدم رکھیں گے۔ اجلاس کے آخر میں عالم اسلام ملک پاکستان بالخصوص فلسطینی اور کشمیری مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جمعیت علمائے پاکستان نظام مصطفی مصطفی کا

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت