بنگلہ دیش میں اداکارہ مہرافروز کےبعدسہانا صبا بھی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
بنگلہ دیش(نیوز ڈیسک) بنگلہ دیش میں اداکارہ مہر افروز کے بعد معروف ماڈل و اداکارہ سہانا صبا بھی گرفتار۔۔ پولیس نامعلوم مقدمات میں تفتیش کررہی ہے. یادرہےگزشتہ دنوں مشہور و معروف اداکارہ و ہدایت کار مہر افروز کو حراست میں لیا گیا تھا۔ جن کے گھر کو نامعلوم افرادنے آگ لگادی تھی اوران کےوالد کے گھر کوبھی ناراض ہجوم نے گزشتہ روز نذر آتش کردیا تھا اور اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ اداکارہ سہانا صبا کو بھی پوچھ گچھ کے لئے پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں 6 فروری کو حراست میں لیا گیا اور سوال و جواب کے لیے ڈٹیکٹیو برانچ دفتر لے جایا گیا۔ڈھاکہ میٹرو پولیٹن پولیس کے ڈپٹی کمشنر محمد ولبر رحمان نے اداکارہ سوہانا صبا سے تفتیش کرنے کی تصدیق کی ہے۔اس سے قبل اداکارہ و ہدایت کار مہر افروز شان کو ڈھاکہ کے دھان منڈی علاقہ میں ان کی رہائش سے حراست میں لیا گیا تھا۔
مہر کے تعلق سے ڈٹیکٹیو برانچ کے چیف رضاء الکریم ملک نے کہا تھا کہ مہر کو ملک کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ انھیں منٹو روڈ پر موجود ڈٹیکٹیو برانچ کے دفتر لے جا کر پوچھ گچھ ہوئی۔دوسری طرف مہر سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے۔
پشاور: ہوٹل میں سلنڈر دھماکے سے 12 افراد زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: حراست میں لیا گیا
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک