چین کے قدرتی جنگلات کے تحفظ کا نظام بنیادی طور پر 2035 تک مستحکم ہو جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
بیجنگ : چین کے ققومی جنگلات اور چراگاہوں کے ادارے، قومی ترقی اور اصلاحات کی کمیٹی، اور وزارت خزانہ سمیت چھ محکموں نے مشترکہ طور پر “قدرتی جنگلات کی حفاظت اور بحالی کے لیے درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ” جاری کیا ہے۔ اس منصوبے میں نئے دور میں چین کے قدرتی جنگلات کی حفاظت اور بحالی کے لیے اعلیٰ سطحی ڈیزائن اور جامع تعیناتی کی گئی ہے۔
منصوبے میں تجویز کیا گیا ہے کہ 2035 تک، قدرتی جنگلات کی حفاظت اور بحالی کا نظام بنیادی طور پر مکمل ہو جائے گا، معیار میں بنیادی بہتری آئے گی، اور قدرتی جنگلات کا ماحولیاتی نظام صحت مند، مستحکم اور فعال ہوگا۔ منصوبے میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام قدرتی جنگلات اور غیر قدرتی عوامی جنگلات کے لیے یکساں تحفظ کا نظام ، تحفظ کی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا، تحفظ کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنایا جائے گا اور بحالی کے لیے پرورش، تبدیلی، اور تجدید جامع اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ جنگلاتی علاقوں میں عوامی بہبود کے تحفظ کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا جائے گا، جنگلاتی علاقوں میں سبز ترقی کو فروغ دیا جائے گا اور جنگلاتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔