2024 کے انتخابات میں پورے پاکستان میں جیتنے والے فارم 47 پر منتخب ہوئے، گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ کراچی میں بھی دو چار سیٹیں پیپلز پارٹی سے چھینی گئیں، جس جس نے 2024 کے الیکشن میں غلط کام کیا سب کو رگڑا لگنا چاہئے، سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ کم از کم اس معاملے پر اکٹھے ہوں، کہ کچھ بھی ہو جائے انتخابات میں کسی قسم کی دھاندلی نہ ہونے پائے تاکہ حقیقی عوامی نمائندگی سامنے آئے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ 2024 کے انتخابات میں پورے پاکستان میں جیتنے والے فارم 47 پر منتخب ہوئے ہیں، 2013، 2018 اور 2024 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، 2024 میں فارم 45 اور فارم 47 کی خرابی تھی، ملکی تاریخ میں کوئی ایک آدھ ہی ایسا الیکشن ہوا ہوگا، جس پر سب نے کہا ہو کہ شفاف الیکشن ہوئے۔ ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2024 میں پنجاب میں بلاول بھٹو کو ملنے والے ووٹ کم ظاہر کئے گئے، ہم نے تو صرف یہ مطالبہ کیا تھا کہ شکست قبول ہے، لیکن ہمیں ہمارے ووٹ تو دکھائیں، ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوتا ہے کہ پنجاب میں کسی حلقے میں ہمیں 30 ہزار ووٹ ملتے ہیں تو 11 ہزار ظاہر کئے جاتے ہیں، یہ سب کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن دلبرداشتہ ہوں اور پارٹی پنجاب میں کمزور ہو جائے۔
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ کراچی میں بھی دو چار سیٹیں پیپلز پارٹی سے چھینی گئیں، جس جس نے 2024 کے الیکشن میں غلط کام کیا سب کو رگڑا لگنا چاہئے، سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ کم از کم اس معاملے پر اکٹھے ہوں، کہ کچھ بھی ہو جائے انتخابات میں کسی قسم کی دھاندلی نہ ہونے پائے تاکہ حقیقی عوامی نمائندگی سامنے آئے۔ سیاسی استحکام کیلئے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو بات چیت کر سکے اور اس کی بات چیت لوگ سنیں اور انہیں یقین ہو کہ کل کو ان کیساتھ ہونیوالی بات چیت پر عمل بھی ہوگا، ایسا نہ ہو کہ کل کو آپ کہیں کہ کوئی اور نہیں مان رہا، اس لئے ہم اپنے وعدے مکمل نہیں کر سکتے، موجودہ حکومت کی توجہ سٹیک ہولڈرز کے تحفظات پر نہیں۔
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ موجودہ حکومت میں ایسا کوئی شخص نہیں جو یہ کردار ادا کر سکے، ایسی ایک ہی شخصیت ہے، وہ صدر آصف علی زرداری ہیں، جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سب اتحادیوں سے کئے گئے وعدے نبھائے، کامیابی سے اپنی پارٹی کی حکومت کی مدت مکمل کروائی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ میں واحد شخصیت سپیکر قومی اسمبلی ہیں، جو بات چیت کرنا جانتے ہیں، پی ٹی آئی میں تو بات چیت کا رواج ہی نہیں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی نے احتجاج کی آڑ میں شرپسندی کی، ان کے کارکنوں نے اداروں پر حملہ کیا، شہدا کی یادگاروں پر توڑ پھوڑ کی، قومی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب پی ٹی آئی کے ہی لوگ تھے، یہ بات خود پی ٹی آئی والے بھی مانتے ہیں۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ سچی بات کرنی چاہئے، اب اس پر جوڈیشل کمیشن بنوا کر پی ٹی آئی کیا چاہتی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے 200 کارکن احتجاج کیلئے نکلتے ہیں تو ان میں 6 سے 7 شرپسند کارکن بھی ہوتے ہیں، جو یہ سب کرتے ہیں، اسی طرح 26 نومبر کو بھی ان لوگوں نے انتشار پھیلایا، اگر کارروائی نہ کی جاتی تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ پی ٹی وی، پارلیمنٹ یا وزیراعظم ہاوس پر حملہ نہ کر دیتے؟۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سردار سلیم حیدر نے کہا انتخابات میں پیپلز پارٹی گورنر پنجاب نے کہا کہ پی ٹی آئی بات چیت بھی ہو
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔